Brailvi Books

فیضانِ اِحیاءُ العُلوم
73 - 325
ہوتی ہے۔

لہٰذا دنیوی نفع کی نسبت اس کی نگہداشت بہت ضروری ہے کیوں کہ دنیا کا نفع اُخروی نعمتوں کے مقابلے میں بہت حقیر ہے۔

پھر یہ بات بھی ہے کہ دنیا کا نفع فانی ہے اور ایسے مال کا کیا فائدہ جو دائمی نہ ہو اس سے وہ شر ہی اچھا ہے جو دائمی نہ ہو۔ کیوں کہ جو شر دائمی نہ ہو اسکے ختم ہونے سے دائمی خوشی حاصل ہوتی ہے اوربرائی بھی ختم ہوجاتی ہے لیکن جو بھلائی باقی نہ رہے اس کے منقطع ہونے پر ہمیشہ کے لئے افسوس ہوتا ہے اور بھلائی الگ چلی جاتی ہے اسی لیے کہا گیا ہے۔
اَشَدُّ الْغَمِّ عِنْدِیْ فِیْ سُرُوْرٍ تَیَقَّنَ عَنْہٗ صَاحِبُہٗ اِنْتِقَالاً۔
ترجمہ : ''میرے نزدیک اس خوشی کے حصول میں زیادہ غم (پوشیدہ ) ہے جس کے حاصل کرنے والے کو اس کے چلے جانے کا یقین ہو''۔

لہٰذا ہر وہ شخص جو اللہ تعالیٰ اور آخرت پر ایمان رکھتا ہے اس پرلازم ہے کہ وہ اپنے نفس کے محاسبہ سے غافل نہ ہو اس کی حرکات و سکنات اور خیالات اور لطف اندوزی کی حد بندی کر دے کیوں کہ زندگی کا ہر سانس ایک ایسا نفیس جوہر ہے جس کی کوئی قیمت نہیں اس سے ایسے خزانے خریدے جاسکتے ہیں جن کی نعمتیں کبھی ختم نہ ہوں تو ایسے سانسوں کو ضائع کرنا یا ایسے کاموں میں صرف کرنا جو ہلاکت کا باعث ہیں بہت بڑا نقصان ہے اور انتہائی ہلاکت خیز ہے جسے کوئی بھی سمجھدار آدمی پسند نہیں کرتا۔
اپنے نفس کو سمجھاؤ ۔۔۔۔۔۔ !
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! جب صبح کے وقت نماز فجر سے فارغ ہو جائیں تو اپنے دل کو نفس کے ساتھ شرائط طے کرنے کے لئے فارغ کریں(یعنی فکر مدینہ کریں) اور نفس سے کہیں کہ میری تمام پونجی یہی زندگی ہے اگر یہ ضائع ہوگئی تو میرا تمام مال ضائع ہو جائے گا اور تجارت کا نفع جاتا رہے گا ۔ اس نئے دن میں مجھے اللہ تعالیٰ نے مہلت دی ہے اور مجھ پر انعام فرمایا اگر وہ مجھے موت دے دیتا تو میں تمنا کرتا کہ وہ مجھے دوبارہ دنیا میں صرف ایک دن کے لئے بھیج دے تاکہ میں اس میں اچھا عمل کروں۔

تو اے نفس! تو یوں سمجھ کہ تجھے مو ت آگئی تھی اور اب تجھے دوبارہ بھیجا گیا ہے تو آج کے دن کو ضائع کرنے سے بچ' کیوں کہ ہر سانس ایک جوہر آبدار ہے جو انمول ہے۔
Flag Counter