Brailvi Books

فیضانِ اِحیاءُ العُلوم
72 - 325
فصل ۔۔۔۔۔۔۱ 

                           نگہداشت کا پہلا مقام ۔۔۔۔۔۔ باہم شرط رکھنا
جو لوگ مل کر تجارت کرتے ہیں اور ان کا سامان مشترک ہوتا ہے حساب کے وقت ان کا مقصد نفع کا حصول ہوتا ہے تو جس طرح ایک تاجر اپنے شریک سے مدد طلب کرتا ہے اور وہ اسے مال دیتا ہے تاکہ تجارت کرے اور پھر وہ اس سے حساب کرتا ہے اسی طرح عقل' راہِ آخرت کی تاجر ہے اور اس کا مطلب اور نفع، نفس کا تزکیہ ہے کیوں کہ یہی کامیابی کا باعث ہے ۔

رب کریم (عزوجل)کا فرمان رحمت و بخشش نشان ہے:
قَدْ اَفْلَحَ مَنۡ زَکّٰىہَا ﴿۹﴾۪ۙوَ قَدْ خَابَ مَنۡ دَسّٰىہَا ﴿ؕ۱۰﴾
ترجمہ کنز الایمان: ''بیشک مراد کو پہنچایا جس نے اسے ستھرا کیا اور نامراد ہوا جس نے اسے معصیت میں چھپایا''۔(پارہ ۳۰' سورہ شمس' آیت ۹'۱۰)

اور اس کی فلاح اچھے اعمال کے ذریعے حاصل ہوتی ہے اور عقل اس تجارت میں نفس سے مدد طلب کرتی ہے کیوں کہ وہ اس (نفس) کو استعمال کرتی ہے اور اسے مسخر کر کے اس کا تزکیہ کرتی ہے جس طرح تاجر اپنے شریک سے مدد طلب کرتا ہے اور اسی طرح اپنے غلام سے مدد لیتا ہے کہ وہ اس کے مال میں تجارت کرے ۔

تو جس طرح شریک تاجر اس کا فریق بن جاتا ہے کہ نفع کے بارے میں اس سے جھگڑا کرتا ہے تو پہلے وہ اس سے شرائط طے کرتا ہے پھر اس کی نگرانی کرتا ہے تیسرے مرحلے میں اس سے حساب کرتا ہے اور چوتھے مرحلے میں اس پر ناراض ہوتا ہے اور جھڑکتا ہے۔ اس طرح عقل پہلے نفس سے شرائط طے کرتی ہے اور اسے کچھ ذمہ داریوں کا پابند کرتی ہے اسے کامیابی کے راستے دکھاتی ہے اور ان راستوں پر چلنے کی تاکید کرتی ہے پھر کسی وقت بھی ان کی نگرانی سے غافل نہیں ہوتی کیوں کہ اگر وہ اسے کھلی چھوٹ دے دے تو خیانت اور اصل سرمایہ کے ضیاع کے سوا کچھ بھی حاصل نہیں ہوتا جس طرح خائن غلام کو مال دے کر اس سے باز پرس نہ کی جائے تو وہ اس طرح کرتا ہے۔

پھر فراغت کے بعد ا س کا محاسبہ کرنا اور مقررہ شرائط کو پوراکرنے کا مطالبہ کرنا مناسب ہے اس تجارت کا فائدہ فردوس اعلیٰ (جنت) میں ملتا ہے اور انبیاء کرام(علیہم السلام) او رشہدائے عظام کی معیت(ہمراہی) میں سدرۃ المنتہیٰ تک رسائی
Flag Counter