| فیضانِ اِحیاءُ العُلوم |
ترجمہ کنز الایمان: ''جس دن ہر جان نے جو بھلا کام کیا حاضر پائے گی اور جو برا کام کیا امید کرے گی کاش مجھ میں اور اسمیں دور کا فاصلہ ہوتا اور اللہ تمہیں اپنے عذاب سے ڈراتاہے''(پارہ ۳ ' سورہ آل عمران' آیت ۳۰) ایک اور جگہ ربّ قدیر (عزوجل)کا فرمان ہے:
وَاعْلَمُوۡۤا اَنَّ اللہَ یَعْلَمُ مَا فِیۡۤ اَنۡفُسِکُمْ فَاحْذَرُوۡہُ ۚ
ترجمہ کنزالایمان: ''اور جان لو کہ اللہ تمہارے دل کی جانتا ہے تو اس سے ڈرو'' (پارہ۲'سورہ بقرہ ' آیت ۲۳۵) اللہ تعالیٰ کے بندوں میں سے ارباب بصیرت نے جان لیا کہ اللہ تعالیٰ انہیں دیکھ رہا ہے اور عنقریب ان سے اعمال کی پرسش ہوگی ۔ ان سے ذرّے کے برابر خطرات کابھی حساب ہوگا انہیں یقین ہوگیا کہ ان خطرات سے نجات کی یہی صورت ہے کہ ہمیشہ خود اپنا محاسبہ کریں اور سچے دل سے نگرانی کریں' اپنے نفس سے ہر سانس اور حرکت کا مطالبہ اور خطرات کا محاسبہ کریں جو شخص محاسبہ سے پہلے خود اپنا محاسبہ کرتا ہے قیامت کے دن اس کا حساب آسان ہوگا اور سوال کے وقت وہ جواب دے سکے گا اور اس کا انجام بھی اچھا ہوگا اور جو آدمی اپنا محاسبہ نہیں کرتا وہ ہمیشہ حسرت کا شکار رہے گا اور حشر کے تکلیف دہ میدان میں اسے زیادہ دیر رُکنا پڑے گا نیز اس کی برائیاں اسے ذلت اور رب لم یزل (عزوجل) کے غضب کا مستحق کردیں گی۔ جب ان پر یہ بات واضح ہوگئی تو انہیں معلوم ہو گیا کہ ان خرابیوں سے نجات صرف اطاعتِ خداوندی (عزوجل) ہی کے ذریعے ممکن ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو صبر اور اپنے محاسبے کا حکم دیا ہے۔ چنانچہ فرمان احکم الحاکمین ہے۔
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اصْبِرُوۡا وَصَابِرُوۡا وَرَابِطُوۡا
ترجمہ کنز الایمان: ''اے ایمان والو صبر کرو اور صبر میں دشمنوں سے آگے رہو اور سرحد پر اسلامی ملک کی نگہبانی کرو '' (پارہ۴ 'سورہ آل عمران ' آیت ۲۰۰) تو اُن نیک بندوں نے اپنے نفس کی حفاظت اس طرح سے کی کہ پہلے ان سے شرطیں باندھیں پھر ان کی نگرانی کی پھر محاسبہ کیا اس کے بعد ان کو سزا دی پھر مجاہدہ کیا پھر ان کو جھڑکا۔ تو نفس کی نگہداشت کے چھ مرحلے اور مقامت ہیں تو ان سب کی تشریح کرنا اور حقیقت و فضیلت بیان کرنا ضروری ہے اس سلسلے میں اعمال کی تفصیل بیان کرنا بھی لازمی ہے اور اس کی اصل محاسبہ ہے لیکن ہر حساب شرط رکھنے اور حفاظت کرنے کے بعد ہوتا ہے اور حساب کے بعد اگر نقصان والی صورت ہو تو ڈانٹ ڈپٹ اور سزا کا سلسلہ ہوتا ہے ہم توفیق خداوندی (عزوجل) سے ان مقامات کی تشریح کرتے ہیں۔