| فیضانِ اِحیاءُ العُلوم |
وَوُضِعَ الْکِتٰبُ فَتَرَی الْمُجْرِمِیۡنَ مُشْفِقِیۡنَ مِمَّا فِیۡہِ وَ یَقُوۡلُوۡنَ یٰوَیۡلَتَنَا مَالِ ہٰذَا الْکِتٰبِ لَایُغَادِرُ صَغِیۡرَۃً وَّلَاکَبِیۡرَۃً اِلَّاۤ اَحْصٰىہَا ۚ وَ وَجَدُوۡا مَا عَمِلُوۡا حَاضِرًا ؕ وَ لَایَظْلِمُ رَبُّکَ اَحَدًا ﴿٪۴۹﴾
ترجمہ کنز الایمان: ''اور نامہ اعمال رکھا جائیگا تو تم مجرموں کو دیکھو گے کہ اس کے لکھے سے ڈرتے ہوں گے اور کہیں گے ہائے خرابی ہماری اس نَوِشْتہ کوکیا ہوا نہ اس نے کوئی چھوٹا گناہ چھوڑا نہ بڑا جسے گھیر نہ لیا ہو اور اپنا سب کیا انہوں نے سامنے پایا اور تمہارا رب کسی پر ظلم نہیں کرتا'' ۔(پارہ ۱۵'سورہ کہف' آیت ۴۹) اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
یَوْمَ یَبْعَثُہُمُ اللہُ جَمِیۡعًا فَیُنَبِّئُہُمۡ بِمَا عَمِلُوۡا ؕ اَحْصٰىہُ اللہُ وَ نَسُوۡہُ ؕ وَ اللہُ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ شَہِیۡدٌ ٪﴿۶﴾
ترجمہ کنز الایمان: ''جس دن اللہ ان سب کو اٹھائے گا پھر انہیں ان کے کوتک جتادیگا اللہ نے انہیں گِن رکھا ہے اور وہ بھول گئے اور ہر چیز اللہ کے سامنے ہے'' (پارہ۲۸' سورہ مجادلہ' آیت ۶) ارشاد خداوندی ہے:
یَوْمَئِذٍ یَّصْدُرُ النَّاسُ اَشْتَاتًا ۬ۙ لِّیُرَوْا اَعْمَالَہُمْ ؕ﴿۶﴾فَمَنۡ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ خَیۡرًا یَّرَہٗ ؕ﴿۷﴾وَ مَنۡ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ شَرًّا یَّرَہٗ ٪﴿۸﴾
ترجمہ کنز الایمان: ''اس دن لوگ اپنے رب کی طرف پھریں گے کئی راہ ہو کر تاکہ اپنا کیا دکھائے جائیں تو جو ایک ذرّہ بھر بھلائی کرے اسے دیکھے گا اور جو ایک ذرّہ بھر برائی کرے اسے دیکھے گا''(پارہ ۳۰' سورہ زلزال' آیت ۷۶تا۷۸) اور ارشاد باری تعالیٰ:
ثُمَّ تُوَفّٰی کُلُّ نَفْسٍ مَّا کَسَبَتْ وَہُمْ لَا یُظْلَمُوۡنَ ﴿۲۸۱﴾٪
ترجمہ کنز الایمان:''اور ہر جان کو اس کی کمائی پوری بھر دی جائے گی اور ان پر ظلم نہ ہوگا''(پارہ ۳ سورہ بقرہ ،آیت ۲۸۱) مزید ایک اور جگہ ارشاد ربّانی ہے:
یَوْمَ تَجِدُ کُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ مِنْ خَیۡرٍ مُّحْضَرًا ۚۖۛ وَّمَا عَمِلَتْ مِنۡ سُوۡٓءٍۚۛ تَوَدُّ لَوْ اَنَّ بَیۡنَہَا وَبَیۡنَہٗۤ اَمَدًۢا بـَعِیۡدًا ؕ وَیُحَذِّرُکُمُ اللہُ نَفْسَہٗ ؕ