اشارہ فرمارہے ہیں اس کی تسہیل کچھ طرح ہے ۔کہ
تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ کیلئے ہیں جو ہر نفس کے عمل کا نگہبان اور ہر کاسِب کے کَسْب کا نگران ہے دلوں میں پوشیدہ وسوسوں کو جانتا ہے اور بندوں کے قلبی اتار چڑھاؤ کا حساب رکھنے والا ہے' زمین و آسمان میں ایک ذر ے کے برابر بھی کوئی چیز اس سے پوشیدہ نہیں' وہ حرکت کرے یا پر سکون ہو، وہ گٹھلی کے سوراخ اور اس کی جھلی کے برابر اور کم یا زیادہ تمام اعمال کا محاسبہ فرمانے والا ہے اگرچہ وہ عمل پوشیدہ ہو وہ اپنے بندوں کی عبادات قبول کر کے ان پر فضل فرماتا ہے اگرچہ تھوڑی ہوں اور ان کے گناہوں کو معاف کرتا ہے اگر چہ زیادہ ہوں وہ ان کا محاسبہ اس لیے فرماتا ہے تاکہ ہر نفس کو اپنے عمل کا علم ہو جائے اور وہ دیکھے کہ اس نے آگے کیا بھیجا اور پیچھے کیا چھوڑا۔
اسے معلوم ہو جائے کہ اگر دنیا میں ا س کی نگرانی اور محاسبہ نہ ہو تو قیامت کے دن بدبختی کا شکار ہو کر ہلاک ہو جائے گا اور اگر محاسبہ اور مراقبہ کے بعد وہ اپنے فضل و کرم سے اس کی کوئی اس معمولی پونجی کو قبول نہ فرمائے تو ہر نفس نقصان اٹھائے اور خسارے میں رہے۔
تو وہ ذات پاک ہے جس کی نعمت تمام بندوں کو کافی اور شامل ہے اور اس کی رحمت نے دنیا اور آخرت میں تمام مخلوقات کو ڈھانپ لیا تو اس کے فضل کی خوشبوؤں سے دل ، ایمان کے لئے کھل گئے اور اس کی توفیق کی برکت سے اعضاء کو عبادت کا طریقہ ، سلیقہ آیا نیز اس کے حُسنِ ہدایت سے دلوں سے جہالت کے اندھیرے چھٹ گئے اور اس کی تائید و مدد سے شیطان کے مکرو فریب ٹوٹ گئے ، اسکے لطف و کرم سے نیکیوں کا پلڑا بھاری ہو گیا اور اس کے آسان کرنے سے عبادات آسان ہو گئیں۔
پس عطاء و جزاء قُرب و بُعد اور خوش بختی و بدبختی سب اُسی کی طرف سے ہے اور انبیاء کرام(علیہم السلام) کے سردار حضرت سیدنا محمد مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی منتخب آل پر جو منصب سیادت پر فائز ہیں اور آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے صحابہ کرام (رضی اﷲ تعالیٰ عنہم) پر جو متقی قائد ہیں اللہ تعالیٰ کی رحمت ہو۔
حمد و صلوٰۃ کے بعد ارشاد خداوندی ہے۔