Brailvi Books

فیضانِ اِحیاءُ العُلوم
68 - 325
مناسب ہے کہ وہ ہمیشہ خوب کوشش کرتا رہے اور عبادت کے سلسلے میں قَبول ورد کے درمیان مُتَرَدِّدْ رہے اور اس بات کا خوف رکھے کہ کہیں اس کی عبادت میں ایسی آفت نہ آجائے جس کا وبال ثواب کے مقابلہ میں زیادہ ہو اربابِ بصیرت جو خوف خدا (عزوجل)رکھنے والے تھے وہ اسی طرح کرتے تھے۔اسی لیے حضرت سَیِّدُنَا سفیان (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) نے فرمایا:'' میں اپنے ظاہر ہونے والے اعمال پر اعتماد نہیں کرتا'' اور ہر صاحبِ بصیرت کو اسی طرح کرنا چاہئیے۔ ۔
اتنی احتیاط :
حضرت سَیِّدُنَا عبد العزیز بن روّاد (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) نے فرمایا'' میں اس گھر ( بیت اللہ شریف) کا ساٹھ سال مجاور رہا اور میں نے ساٹھ حج کئے لیکن میں نے اللہ تعالیٰ کیلئے جو عمل بھی کیا اس میں اپنے نفس کا محاسبہ کیا تو شیطان کا حصہ اللہ تعالیٰ کے حصے سے زیادہ پایا کاش میرا حساب برابر ہو نفع نہ ہو تو نقصان بھی نہ ہو''۔
کیا عمل چھوڑ دیا جائے :
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! آفت اور ریا کے خوف سے عمل کو چھوڑنا مناسب نہیں کیوں کہ شیطان کی انتہائی آروزیہی ہے کہ بندہ عمل چھوڑ کر اللہ (عزوجل) کی رحمت سے مایوس ہو جائے۔ حالانکہ بندے کا مقصد تو یہ ہونا چاہئے کہ اخلاص نہ جانے پائے اور جب عمل کو چھوڑے گا تو عمل اور اخلاص دونوں چلے جائیں گے۔

منقول ہے کہ ایک فقیر حضرت سَیِّدُنَا ابو سعید خراز (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) کی خدمت کیا کرتا اور ان کے اعمال میں مدد کرتا ایک دن حضرت سَیِّدُنَا ابو سعید (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) نے حرکات کے سلسلے میں اخلاص کا ذکر کیا تو فقیر ہر حرکت میں دل کی نگرانی کرنے لگا اور اخلاص کو تلاش کرتا۔ چنانچہ اس کیلئے حاجات کی تکمیل بھی مشکل ہو گئی جس سے شیخ کو نقصان ہوا انہوں نے فقیر سے پوچھا کام کیوں نہیں کرتے تو اس نے بتایا کہ میں نفس سے حقیقت اخلاص طلب کرتا ہوں اور میرا نفس اخلاص سے عاجز ہے لہٰذا میں اسے چھوڑ دیتا ہوں۔حضرت سَیِّدُنَا ابو سعید(رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ)نے فرمایا'' اس طرح نہ کرو کیوں کہ اخلاص عمل کو ختم نہیں کرتا لہٰذا ہمیشہ عمل کرو اور اخلاص کی کوشش کرو میں نے تم سے یہ نہیں کہا ہے کہ عمل چھوڑ دو میں نے تو صرف یہ کہا کہ عمل میں اخلاص پیدا کرو۔''

حضرت سَیِّدُنَا فضیل (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) نے فرمایا ''لوگوں کی وجہ سے عمل کو چھوڑنا ریا ہے اور مخلوق کو دکھانے کیلئے عمل کرنا شرک''۔
مراقبہ او رمحاسبہ کا بیان:
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! یہاں سیدنا امام غزالی (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) مراقبہ (فکر مدینہ) اور اپنے نفس کے محاسبہ کے بارے میں سیرحاصل گفتگو فرمانے والے ہیں اس لئے بطور خاص ایک مختصر خطبہ ارشاد فرماتے ہیں جس میں نفسانی و ساوس کی طرف
Flag Counter