میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! لفظ ِشرکت جہاں کہیں وارد ہوا مطلق برابری کے معنیٰ میں آیا ہے (یعنی شرکت کا معنی یہ ہے کہ دین اور دنیا دونوں کا ارادہ برابر ہو) اور ہم بیان کرچکے ہیں کہ جب دو ارادے مساوی ہوں تو ساقط ہوجاتے ہیں اور نفع نقصان کچھ بھی نہیں ہوتا لہٰذا اس پر ثواب کی امید نہیں رکھنی چاہیئے۔ پھر انسان حالتِ شرکت میں ہمیشہ خطرے میں رہتا ہے اسے معلوم نہیں کہ دونوں باتوں میں سے کونسی بات اس کے ارادے پر زیادہ غالب ہوگی پس بعض اوقات وہ اس کیلئے وبال بن جاتی ہے اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
فَمَنۡ کَانَ یَرْجُوۡ لِقَآءَ رَبِّہٖ فَلْیَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَّ لَا یُشْرِکْ بِعِبَادَۃِ رَبِّہٖۤ اَحَدًا ﴿۱۱۰﴾٪
ترجمہ کنز الایمان: ''تو جسے اپنے رب سے ملنے کی امید ہو اسے چاہئے کہ نیک کام کرے اور اپنے رب کی بندگی میں کسی کو شریک نہ کرے''(پارہ ۱۶' سورہ کہف، آیت ۱۱۰) مطلب یہ ہے کہ شرکت کے ہوتے ہوئے ملاقاتِ خداوندی کی امید نہ رکھے کیوں کہ شرکت کا سب سے نقصان دہ نتیجہ یہ ہے کہ عمل ساقط ہو جائے گا۔یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ منصبِ شہادت جہاد میں اخلاص کے بغیر حاصل نہیں ہوسکتا اور یہ بات کہنا بعید از عقل ہے کہ جس شخص کا دینی ارادہ اس انداز کا ہو کہ وہ محض جہاد کی رغبت دے اگر چہ غنیمت حاصل نہ ہو اور کفار کی دونوں قسم کی جماعتوں یعنی تونگر اور مفلس(دونوں) سے لڑ سکتا ہو پس وہ مالدار جماعت کی طرف مائل ہوتا کہ اللہ تعالیٰ کا حکم بھی بلند ہو اور غنیمت بھی حاصل ہوتو اسے ثواب بالکل نہیں ملے گا۔ میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!ہم اللہ (عزوجل) کی پناہ چاہتے ہیں کہ ہمارے ساتھ معاملہ اس طرح کیا جائے۔ کیوں کہ اگر اس خیال کی خبر عام مسلمانوں کی دی جائے تو یہ دین میں حرج کا باعث ہو گا اور مسلمان اس سے مایوسی کا شکار ہونگے۔ کیوں کہ اس قسم کی ضمنی آمیزشوں سے انسان کبھی بھی خالی نہیں ہوتا اِلاَّمَا شَاءَ اللہُ تَعَالیٰ اور اس قسم کی بات ثواب میں کمی پیدا کرتی ہے عمل کو بالکل ضائع نہیں کرتی۔ ہاں اس میں انسان کیلئے بڑا خطرہ ہے کیوں کہ بعض اوقات وہ سمجھتا ہے کہ قوی سبب تقرب خداوندی کا قصد ہے حالاں کہ اس کے دل میں نفسانی اغراض غالب ہوتی ہیں اورچونکہ یہ بات نہایت خفی ہوتی ہے اور اجر کا حصول صرف اخلاص کی بنیاد پر ہوتا ہے تو انسا ن کو چاہئیے کہ خوب احتیاط سے کام لے اور اپنے نفس کے اخلاص کا کبھی یقین نہ کرے ۔اس لیے