| فیضانِ اِحیاءُ العُلوم |
طاقت گرم چیز کی طاقت کے برابر ہوتو ان دونوں کے کھانے کے بعد ا س طرح ہوگا کہ گویا اس نے دونوں چیزیں نہیں کھائیں اور اگر ان میں سے ایک غالب ہو تو وہ اثر سے خالی نہ ہوگی (یعنی جو تاثیر غالب ہوگی وہ اپنا اثر ظاہر کرے گی خواہ گرم ہو یا ٹھنڈی)۔ میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! جس طرح کھانے ، پانی اور دواؤں میں سے ذرّہ بھر بھی ضائع نہیں ہوتا اور سنتِ الٰہیہ کے مطابق جسم پر اس کا اثر ضرور ہوتا ہے اسی طرح خیر و شر کا کوئی ذرّہ بھی ضائع نہیں ہوتا اور دل کو روشن یا تاریک کرنے اور اللہ تعالیٰ سے قرب یا دوری کے سلسلے میں اس کی تاثیر ہوتی ہے پس جب ایسا عمل کرے جو اسے بالشت بھر اللہ تعالیٰ کے قریب کرتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ وہ عمل بھی ہو جو بالشت بھر دُوری کا باعث ہو تو وہ پہلی حالت کی طرف لوٹ آئے گا اور اسے نہ تو کوئی فائدہ ہوگا اور نہ نقصان۔ تو اسے یوں سمجھئے کہ اگر ایسا عمل ہو جو دو بالشت قریب کرتا ہے اور دوسرا عمل ایک بالشت دور کرتا ہے تو ظاہر ہے کہ ایک بالشت کی فضیلت باقی رہے گی۔
گناہ کے بعد نیکی :
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! سرکار ذی وقار، شافع روزشمار،ہم بیکسوں کے مددگار،ہم غمزدوں کے غمگسار صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
اتبِعِ السَّیِّئَۃَ الْحَسَنَۃَ تَمْحُھَا
ترجمہ :''برائی کے پیچھے نیکی لاؤ وہ اسے مٹادے گی''(مسند امام احمد بن حنبل جلد ۵، ص ۱۵۸، مرویات ابو ذر) چنانچہ میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! جب محض ریا کو اخلاصِ محض مٹا دیتاہے تو جس صورت میں دونوں جمع ہوں تو وہ ضرور ایک دوسرے کو دور کریں گے۔ او اس بات پر امت کا اجماع ہے کہ جو شخص حج کے لئے جائے اور اس کے پاس تجارت کا مال بھی ہو تو اس کا حج صحیح ہو گا اور اس پر اسے ثواب بھی ملے گا اگر چہ اس میں نفسانی غرض شامل ہو گئی۔ ہاں ممکن ہے کہ یہ کہا جائے کہ اعمال پر ثواب اس وقت ملے گا جب وہ مکہ مکرمہ پہنچ جائے اور تجارت حج پر موقوف نہیں ہے پس وہ خالص ہے البتہ سفر حج مشترک ہے اور جب تجارت کی نِیّت ہو تو اس (سفر) کا ثواب نہیں ملے گا ۔ لیکن بہتر یہ ہے کہ کہا جائے کہ جب محرک اصلی حج ہی ہے اور تجارت کی غرض بطور مدد گار اور تابع کے ہے تو نفسِ سفر بھی ثواب سے خالی نہ ہوگا ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ غازی جب کفار سے لڑیں اور ایک صورت میں مال غنیمت حاصل ہو اور