| فیضانِ اِحیاءُ العُلوم |
اُبھارا اور اس کی قوت کتنی تھی) اگر دینی اور نفسانی باعث دونوں برابر ہوں تو اس سلسلے میں ثواب و عذاب کچھ نہ ہوگا اور اگر دکھاوے کا سبب غالب اور قوی ہو تونہ صرف یہ کہ یہ عمل نفع نہ دے گا بلکہ الٹاباعثِ نقصان و عذاب ہوگا۔ ہاں اس صورت میں عذاب اُس عذاب سے ہلکا ہوگا جو محض ریا کی صورت میں ہوتا۔ اور اس عمل میں تَقَرُّبِ خُداوندی کی نِیّت بالکل نہ ہوتی اور اگر کسی دوسرے باعث کے مقابلے میں تقرب خداوندی غالب ہو تو جس قدر باعثِ دینی زیادہ ہوگا اسی قدر ثواب بھی ملے گا۔ کیوں کہ ارشاد خداوندی ہے:
فَمَنۡ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ خَیۡرًا یَّرَہٗ ؕ﴿۷﴾وَ مَنۡ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ شَرًّا یَّرَہٗ ٪﴿۸﴾
ترجمہ کنز الایمان: ''تو جو ایک ذرّہ بھر بھلائی کرے اسے دیکھے گا اور جو ایک ذرّہ بھر برائی کرے اسے دیکھے گا'' (پارہ ۳۰ 'سورہ زلزال' آیت ۷) اور ربِّ لم یزل (عزوجل) کا فرمان عافیت نشان ہےـ:
اِنَّ اللہَ لَا یَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ ۚ وَ اِنۡ تَکُ حَسَنَۃً یُّضٰعِفْہَا
ترجمہ کنز الایمان: ''اللہ ایک ذرّہ بھر ظلم نہیں فرماتا اور اگرکوئی نیکی ہو تو اسے دونی کرتا''( پارہ ۵' سورہ النساء 'آیت ۴۰) لہٰذا نیکی کا ارادہ ضائع نہیں ہوگا بلکہ اگر ریا کا قَصَد غالب ہوتو اس کے برابر ثواب ضائع ہو جائے گا اور جو زائد ہے باقی رہ جائے گا اور اگر قصَدِ ریا مغلوب ہو تو اس کے سبب سے اتنا عذاب ساقط ہو جائے گا جو محض قصدِ فاسد سے ہوتا ہے۔
مقامِ تحقیق :
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو !اس بات کی تحقیق کچھ یوں ہے کہ اعمال کی تاثیر دلوں میں ہوتی ہے کہ جس صفت سے وہ صادر ہوتے ہیں، وہ اسے ہی پختہ کرتے ہیں چنانچہ جو چیز ریا کی دعوت دیتی ہے وہ مُہْلکات میں سے ہے اور اس مہلک کی غذااور قوت اس کے مطابق عمل کرنا ہے اور خیر کا داعی نجات دینے والے امور میں سے ہے اور اس کے مطابق عمل کرنا اس صفت کو مضبوط کرتا ہے چنانچہ جب یہ دونوں متضاد صفات دل میں اکٹھی ہوجائیں اور پھر ریا کے تقاضے کے مطابق عمل کرے تو یہ صفت مضبوط ہو جائے گی اور تقربِ خداوندی کے تقاضے کے مطابق عمل کرے تو یہ قوت بھی مضبوط ہو جائے گی اور ان دونوں میں سے ایک مہلک ہے اور دوسری نجات دینے والی ہے اب اگر دونوں کی قوت برابر ہو تو دونوں صفات مساوی ہوجائیں گی مثلاً کسی شخص کو گرم چیزیں نقصان دیتی ہیں جب وہ گرم چیز کھانے کے بعد ٹھنڈی چیز کھائے جس کی