| فیضانِ اِحیاءُ العُلوم |
ہے ) حالاں کہ یہ تو خالص مکر اور دھوکہ ہے اگر اس کاخشوع اللہ تعالیٰ کے جلال کو دیکھتے ہوئے ہوتا تو تنہائی میں بھی یہ خطرہ ہوتا اور یہ حالت دوسروں کے دیکھنے کے ساتھ خاص نہ ہوتی۔ اس آفت سے محفوظ ہونے کی علامت یہ ہے کہ یہ خیال تنہائی میں بھی اس کے دل میں جما رہے جس طرح مجلس میں رہتا ہے اور دوسروں کی موجودگی کا سبب نہ ہو جس طرح جانوروں کی موجودگی اس خیال کا باعث نہیں ہوتی پس جب تک وہ انسانی مشاہدے اور جانور کے مشاہدے میں فرق کرتا ہے اخلاص کی نورانِیّت سے محروم رہے گا اور اس کا باطل شرک خفی یعنی ریاسے آلودہ رہے گا اور یہ شرک انسان کے دل میں، سیاہ چیونٹی کے سخت اندھیری رات میں سخت پتھر پر چلنے سے بھی زیادہ پوشیدہ ہے جیسا کہ حدیث شریف میں آیا ہے۔
شیطان سے کون بچ سکتاہے :
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو !شیطان سے وہی شخص بچ سکتا ہے جو نہایت گہری نظر رکھتا ہو اللہ تعالیٰ کی حفاظت اور اس کی توفیق کے سبب خوش نصیب ہو ورنہ شیطان ہر وقت ان لوگوں کی تاک میں رہتا ہے جو عبادت خداوندی میں مستعدہوتے ہیں وہ ان سے ایک لحظہ کیلئے بھی غافل نہیں ہوتا اور ان کو ہر حرکت میں ریا کاری پر ابھارتا ہے حتی کہ آنکھوں میں سرمہ لگانے مونچھیں کاٹنے، جمعہ کے دن خوشبو لگانے، اور کپڑے پہننے میں ریاکاری کی ترغیب دلاتا ہے کیوں کہ یہ امور مخصوص اوقات میں سنت ہیں اور نفس کیلئے ان میں ایک خفی غرض ہے کیوں کہ لوگ ان کاموں کو دیکھتے ہیں اور طبعیت ان سے مانوس ہوتی ہے اس لیے شیطان ان کاموں کے کرنے کی طرف بلاتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ سنت ہے اس لیے اسے چھوڑنا نہیں چاہیے اور نفس کو اس تقریر سے اس لیے ترغیب ملتی ہے کہ اس کی اپنی خواہش اسکے مطابق ہوتی ہے یا اس میں ریا کی کچھ آمیزش ہوتی ہے جس کی وجہ سے وہ اخلاص کی حد سے نکل جاتا ہے اور جو ان تمام آفات سے محفوظ نہ ہو وہ خالص نہیں ۔ بلکہ جو شخص ایسی مسجد میں اعتکاف کرتا ہے جس کی تعمیر اور صفائی وغیرہ عمدہ ہے اور اس سے طبعیت مانوس ہوتی ہے تو شیطان اس سلسلے میں اسے رغبت دیتا ہے اور اعتکاف کے فضائل کثرت سے بیان کرتاہے جبکہ بعض اوقات اس کا محرکِ خفی مسجد کی خوبصورتی کی وجہ سے جی بہلانا اور اس میں طبعیت کا آرام پاناہوتا ہے اور یہ بات اس وقت واضح ہوتی ہے جب ایک مسجد ، دوسری کے مقابلے میں زیادہ خوبصورت ہوتو اب اسکا نفس اُس مسجد کی طرف ما ئل ہوجائے گا۔ اور ان سب صورتوں میں طبعیت کی آمیزش اور نفس کی کدورت ملی ہوتی ہے اور یہ بات اخلاص کو ختم کردیتی ہے جس طرح خالص سونے میں کھوٹ ملی ہوئی ہو تو اس کے لیے درجات ہیں۔ بعض اوقات کھوٹ غالب ہوتی ہے اور بعض