ہیں جو پہلی صورت میں نہیں ہوتے یہ بھی عین ریاکاری ہے اور اس سے اخلاص باطل ہوجاتا ہے کیوں کہ اگر وہ خشوع اور حُسنِ عبادت کو اتنا ہی اچھا سمجھتا ہے کہ دوسرے کیلئے اسے چھوڑنے پر راضی نہیں ہوتا تو خلوت میں خود اس کو اپنانے پر راضی کیوں نہیں اور بات ممکن نہیں کہ کوئی شخص اپنے آپ پر کسی دوسرے کو ترجیح دے بلکہ حقیقی رہنما تو وہ شخص ہے جو خود سیدھے راستے پر ہو اس کا دل نور اخلاص سے منور ہو پھر یہ نور دوسروں تک پہنچے اور اس کو ثواب حاصل ہو۔ پس جو شخص اس کی اقتدا کریگا اُسے تو ثواب حاصل ہوگا لیکن خود اس سے اس بات کی باز پرس ہوگی کہ اس نے دھوکہ کیا اور جو کچھ اس میں ظاہر نہ تھا اس سے اپنے آپ کو موصوف ظاہر کیا۔
تیسرا درجہ پہلے دونوں درجوں سے بھی زیادہ گہرا ہے کہ اس سلسلے میں بندہ اپنی آزمائش کرے اور شیطان کے مکرو فریب سے آگاہ ہو اورجان لے کہ خلوت کی صورت میں عبادت کی کیفیت کا کچھ اور ہونا اور کسی کے سامنے دوسری کیفیت کا ہونا محض ریا ہے او ر اس بات کو بھی جان لے کہ اخلاص اس چیز کا نام ہے کہ خلوت میں نماز لوگوں کے سامنے والی نماز کی طرح ہوا سے اپنے آپ سے بھی حیا آئے اور اپنے رب سے بھی حیا کرے کہ خلوت میں جو خشوع پایا جاتا ہے لوگوں کے سامنے اس سے زائد خشوع ہوچنانچہ اب آدمی اگر خلوت میں اپنے نفس کی طرف متوجہ ہو اور اپنی نماز کو اس طریقے پر اچھا بنائے جس طریقے کو لوگوں کے سامنے پسند کرتا تھا۔ اور لوگوں کے سامنے بھی اسی طریقے پر نماز پڑھے تو یہ باریک قسم کی ریا کاری ہے کیوں کہ اس نے علیحدگی میں نماز کو اس لیے اچھا کیا کہ لوگوں کے سامنے بھی اسی طرح اچھا بنائے تو اب خلوت اور مجمع دونوں میں اس کی توجہ مخلوق کی طرف ہوگی حالانکہ اخلاص تو یہ ہے کہ اس کی نماز کی طرف جانوروں اور انسانوں کا دیکھا برابر ہو گو یا اس کا دل برداشت نہیں کرتا کہ لوگوں کے سامنے نماز بری طرح ادا کرے پھر اپنے دل میں شرماتا ہے کہ کہیں ریاکاروں میں سے نہ ہوجائے اور وہ خیال کرتاہے کہ جب خلوت اور مجلس کی نماز ایک جیسی ہوجائے گی تو ریاکاری ختم ہو جائے گی۔
لیکن یہ بات صحیح نہیں بلکہ ریاکاری کا زوال اس وقت ہوگا کہ خلوت اور اجتماع دونوں صورتوں میں مخلوق پیش نظر نہ ہو جس طرح جمادات کی طرف توجہ نہیں ہوتی۔ تو یہ شیطان کے خفیہ فریب ہیں۔
چوتھا درجہ سب سے زیادہ باریک اور خفی ہے کہ جب لوگ اسے نماز میں دیکھیں اور شیطان یہ بات کہنے سے عاجز آجائے کہ ان کیلئے خشوع اختیار کرو کیوں کہ شیطان اس بات کو جانتا ہے کہ وہ شخص اس فریب کو سمجھ چکا ہے اس لیے شیطان کہتا ہے اللہ تعالیٰ کی عظمت و جلال میں غور کرو اور دیکھو تم کس کے سامنے کھڑے ہو اور اس بات سے حیا کرو کہ اللہ تعالیٰ تمہارے دل کو دیکھے اور تمہارا دل اس سے غافل ہو اس خیال کے آنے سے اس کا دل حاضر ہوتا ہے اور اعضاء میں خشوع پیدا ہوتا ہے اور وہ اسے عین اخلاص سمجھتا ہے(یعنی لوگوں کے سامنے شیطان اُسے خشوع دلا کر اس کی توجہ لوگوں کی طرف کروا دیتا