Brailvi Books

فیضانِ اِحیاءُ العُلوم
59 - 325
ترجمہ : ''تم کہو کہ میرا رب اللہ تعالیٰ ہے پھر اس پر استقامت اختیار کرو جیسا کہ تمہیں حکم دیا گیا۔



یعنی اپنے نفس اور خواہش کے پجاری نہ بنو اور صرف اپنے رب (عزوجل) کی عبادت کرو اور اس کی عباد ت میں اسی طرح سیدھی راہ پر رہو جس طرح تمہیں حکم دیا گیا۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے اللہ تعالیٰ کے غیر سے توجہ بالکل ہٹالے اور یہی سچا اخلاص ہے۔
فصل ۔۔۔۔۔۔۴

                   اخلاص کی آفات اور ملاوٹوں کے درجات
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! وہ آفات جو اخلاص کو آلودہ کردیتی ہیں ان میں سے بعض واضح ہیں اور بعض پوشیدہ ہیں اور بعض واضح ہونے کے باوجودکمزور ہیں جب کہ بعض پوشیدہ ہونے کے باوجود قوی و مضبوط ہیں اور پوشیدہ و ظاہر ہونے کے حوالے سے ان کے درجات کوایک مثال سے سمجھاجا سکتا ہے اور اخلاص کو سب سے زیادہ خراب کرنے والی چیز ریا کاری ہے تو اس سلسلے میں مثال بیان کرتے ہوئے ہم کہتے ہیں ۔کہ 

جب کوئی شخص خلوص سے نماز پڑھ رہا ہو تو شیطان اُس کو اس آفت میں مبتلا کرتا ہے کہ جب کچھ لوگ اسے نماز پڑھتے ہوئے دیکھ رہیں ہوں یا اس کے پاس کوئی شخص آئے تو شیطان کہتا ہے اچھی طرح نماز پڑھوتاکہ دیکھنے والا تمہیں تعظیم کی نگاہ سے دیکھے اور تجھے اچھاسمجھے اورنہ تو تجھے حقارت کی نگاہ سے دیکھے اور نہ تمہاری غیبت کرے، اب یہ شخص شیطان کی بات سن کر اپنے اعضاء میں خشوع ظاہر کرے اور اچھے طریقے سے نماز ادا کرے تو یہ واضح ریا ہے حتی کہ ابتدائی مریدین پر بھی اسکی ریا ظاہر ہو جاتی ہے۔

دوسرا درجہ یہ ہے کہ مرید اس آفت کو سمجھ گیا اور اس نے اس سے بچاؤکی راہ اختیار کر لی اور وہ شیطان کی اطاعت نہیں کرتا اور نہ اس کی طرف متوجہ ہوتا ہے بلکہ پہلے کی طرح نماز کو جاری رکھتا ہے تو اب شیطان کسی نیکی کے بہانے سے اس کے پاس آتا ہے اور کہتا ہے تیری اتباع اور اقتداء کی جاتی ہے اور تجھے دیکھا جاتا ہے تو جو عمل کرتا ہے لوگ اس سے اثر لیتے ہیں اور تیری اقتدا کرتے ہیں اگر تو اچھا عمل کریگا تو ان کے عمل کا ثواب بھی پائے گا۔ اور اگر برا کریگا تو ان کا گناہ بھی تجھ پر ہوگا لہٰذا اس آدمی کے سامنے عمل اچھا کرو ہوسکتا ہے وہ خشوع و خضوع اور اچھی طرح عبادت کرنے میں تیری پیروی کرے۔ 

یہ درجہ پہلے درجے کی نسبت کچھ پوشیدہ ہے اور بعض اوقات اس صورت میں وہ لوگ بھی دھوکے کا شکار ہوجاتے
Flag Counter