Brailvi Books

فیضانِ اِحیاءُ العُلوم
58 - 325
اگر اس کے بدلے میں ان کوجنت کی تمام نعمتیں بھی دی جائیں تو وہ اسے حقیر جانیں اور اس کی طرف متوجہ نہ ہوں پس ان کی حرکت بھی کسی غرض کیلئے ہوتی ہے اور عبادت کا بھی ایک مقصد ہوتا ہے اوروہ فقط ذاتِ معبود ہے اس کے علاوہ کچھ نہیں ۔
اپنے خالق (عزوجل) کو دیکھ :
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! حضرت سَیِّدُنَاابو عثمان (ص)فرماتے ہیں'' اخلاص یہ ہے کہ انسان ہمیشہ اپنے خالق کی طرف دیکھے اور یوں مخلوق کو دیکھنا بھول جائے''۔ اس قول میں صرف ریا کی آفت کی طرف اشارہ ہے اسی لیے بعض بزرگوں (رحمہم اللہ تعالیٰ) نے فرمایا عمل میں اخلاص یہ ہے کہ شیطان اس پر مطلع نہ ہو ورنہ وہ اسے بگاڑ دے گا اور نہ فرشتوں کو اس کا علم ہو کہ وہ اسے لکھیں یہ محض پوشیدہ رکھنے کی طرف اشارہ ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اخلاص وہ چیز ہے جو مخلوق سے پوشیدہ اور ملاوٹ سے پاک ہو۔ یہ قول تمام مقاصد کو جامع ہے۔

حضرت سَیِّدُنَا محاسبی (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ)فرماتے ہیں ''اخلاص یہ ہے کہ بندہ رب (عزوجل) کے معاملے سے مخلوق کو نکال دے''۔ اس قول میں محض ریا کی نفی کی طرف اشارہ ہے اسی طرح حضرت سَیِّدُنَا خَوَّاص (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) نے فرمایا'' جو شخص جاہ و منصب کا پیالہ پیتا ہے وہ بندگی کے اخلاص سے نکل جاتا ہے''۔ حضرت سَیِّدُنَا عیسٰی(علیہ السلام)کے حواریوں نے آپ(علیہ السلام)کی خدمتِ بابرکت میں عرض کیا کہ کس کا عمل خالص ہے؟ آپ(علیہ السلام) نے فرمایا'' وہ شخص جو اللہ تعالیٰ کے لیے عمل کرتا ہے اسے یہ بات پسند نہیں ہوتی کہ اس پر کوئی اس کی تعریف کرے تو یہ بھی ریا کو چھوڑ نے کی بات ہے آپ(علیہ السلام)نے اس بات کو خاص طور پر اس لئے ذکر فرمایا کہ اخلاص میں نقصان کا یہ سب سے بڑا سبب ہے۔

حضرت سَیِّدُنَا جنید بغدادی(رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ)فرماتے ہیں'' اخلاص ، عمل کے کدورتوں سے پاک ہونے کا نام ہے''۔ حضرت سَیِّدُنَا فضیل (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) فرماتے ہیں'' لوگوں کو دکھانے کیلئے عمل کو چھوڑنا ریا ہے اور ان کیلئے عمل کرنا شرک ہے اور اخلاص یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تجھے ان دونوں مصیبتوں سے بچائے''۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اخلاص دائمی مراقبہ (اعمال کی حفاظت) اور نفسانی اغراض کو بھولنے کانام ہے۔

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! یہ سب کچھ اخلاص کی حقیقت کو سمجھنے کے لئے کافی ہے۔ورنہ اس سلسلے میں بے شمار اقوال ہیں لیکن واضح ہوجانے کے بعد زیادہ باتیں نقل کرنے کا کوئی فائدہ نہیں اور اس سلسلے میں شافی بیان سرکار دو عالم  صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا بیان ہے آپ  صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے اخلاص کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ  صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
اَنْ تَقُوْلَ رَبِّیَ اللہُ ثُمَّ تَسْتَـقِیْمَ کَمَا اُمِرْتَ (سنن ابنی ماجہ، ص ۲۹۴، ابواب الفتن)
Flag Counter