کہ اپنے عمل کو خود پسندی سے بھی پاک وصاف رکھا جائے کیوں کہ اخلاص کی طرف توجہ اور اس پر نظر بھی خود پسندی ہے اور یہ بھی آفات میں سے ایک آفت ہے خالص عمل وہ ہے جو تمام آفت سے پاک ہو اور یہ اپنے عمل کو خالص سمجھنا بھی ایک بڑی آفت ہے۔
حضرت سَیِّدُنَا سہل (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) فرماتے ہیں ''اخلاص یہ ہے کہ بندے کی حرکت و سکون سب کچھ صرف اورصرف اللہ تعالیٰ کے لئے ہو، آپ (ص)کا یہ قول جامع ہے اور اس سے بات پوری طرح مکمل ہوجاتی ہے ۔
حضرت سَیِّدُنَاابراھیم بن ادھم(رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) کے قول کا بھی یہی مطلب ہے آپ (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) نے فرمایا '' اخلاص اللہ تعالیٰ کے ساتھ نِیّت کو سچا کرنے کانام ہے''۔
حضرت سَیِّدُنَاسہل(رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ)سے پوچھا گیا کہ نفس پر سب سے سخت بات کیا ہے؟ ۔ آپ(رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ)نے فرمایا'' اخلاص''، کیوں کہ اس میں نفس کا اپنا کوئی حصہ نہیں ہے۔
حضرت سَیِّدُنَا رویم (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) فرماتے ہیں عمل میں اخلاص یہ ہے کہ عمل کرنے والا دنیا اور آخرت دونوں جہانوں میں اس عمل کا بدلہ نہ مانگے ۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ نفسانی مقاصد دنیوی ہوں یا اُخروی وہ آفت ہیں اور جو شخص اس لیے عبادت کرے کہ جنت میں نفسانی خواہشات سے بہرہ ور ہو وہ آفت زدہ ہے۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ عمل سے صرف اللہ تعالیٰ کی رضامقصود ہونی چاہئیے اور یہ صدیقین کے اخلاص کی طرف اشارہ ہے جسے ''خالص اخلاص'' کہتے ہیں۔
لیکن جو شخص جنت کی امید اور جہنم کے خوف سے عبادت کرتا ہے وہ فوری طور پر ملنے والے فوائد کے حوالے سے مخلص ہے ورنہ وہ پیٹ اور شرمگاہ کی خواہش کو پورا کرنے والا ہے اور عقل مند لوگوں کا سچا مطلوب تو فقط اللہ تعالیٰ کی رضا ہوتا ہے اور کسی قائل کا یہ قول اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ انسان کی ہرحرکت کسی نہ کسی مقصد کیلئے ہوتی ہے۔ مقاصد و اغراض سے پاک ہونا تو اللہ تعالیٰ کی صفت ہے اور جو اپنے لئے یہ دعوٰی کرے وہ کافر ہے ۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! حضرت سَیِّدُنَاابو بکر باقلانی (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ)نے ان لوگوں کو کافرقرار دیا جو ہر قسم کی غرض سے پاک ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ اور فرمایا، یہ اللہ تعالیٰ کی صفت ہے ۔ آپ (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) نے جو فرمایا وہ حق ہے لیکن لوگوں نے اغراض سے پاک ہونے کا مطلب یہ لیا ہے کہ بندہ کا عمل ان اغراض سے پاک ہو جن کو لوگ عرف ِعام میں غرض سمجھتے اور کہتے ہیں ۔جبکہ جنت کی خواہش بھی اپنی اصل کے لحاظ سے ایک غرض ہی ہے ۔اور معرفت ، مناجات اور دیدار الٰہی سے لطف اندوز ہونا تو مخلص لوگوں کی غرض ہے لیکن عام لوگوں کے نزدیک یہ باتیں غرض شمار نہیں ہوتی بلکہ وہ اس بات پر تعجب کرتے ہیں۔
اور یہ وہ لوگ ہیں کہ اطاعت، مناجات اورباگارہ خداوندی کی دائمِی حاضِری جیسی اہم نعمتیں جو ان کے پاس ہیں