کا حق کیلئے جھکاؤ اور تبلیغ کا کام کرنا اپنے سے افضل کے سپرد کرنا زیادہ ثواب کا باعث ہے اور تنہا تبلیغ کے مقابلے میں اس صورت میں ثواب زیادہ ہوگا توبتائیے اگر حضرت سَیِّدُنَا عمر فاروق (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) حضرت سَیِّدُنَاابو بکر صدیق (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) کی خلافت پر غمگین ہوتے تو کیا یہ غم اچھا ہوتا یا برا؟یقیناکسی بھی دین دار آدمی کو اس بات میں شک نہیں کہ اگر حضرت سَیِّدُنَا عمر فاروق (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) ایسا کرتے تو یہ بات قابِل تعریف نہ ہوتی کیوں کہ ان کا حق کے سامنے جھک جانا اور قوم کے معاملہ اپنے سے افضل کے سپرد کر دینا خود لوگوں کے مسائل کی ذمہ داری اٹھانے سے بہتر تھا اور اس میں ثواب بھی زیادہ ہے بلکہ حضرت سَیِّدُنَا عمر فاروق (ص) اس بات پر خوش ہوئے کہ جو شخصیت ان سے افضل ہے اس نے تن تنہا اس ذمہ داری کو اٹھایا۔
چنانچہ ایسے مبلغین و علماء کو کیا ہوا کہ وہ اس بات پر خوش نہیں ہوتے بعض اوقات کچھ اہل علم شیطان کے دھوکے میں آجاتے ہیں اور دل میں کہتے ہیں کہ اگر کوئی ہم سے افضل عالم پیدا ہوا تو ہمیں خوشی ہوگی لیکن امتحان سے پہلے یہ بات کہنا محض جہالت اور نفس کا دھوکہ ہے کیونکہ نفس اس قسم کے وعدوں میں فورًا جھک جاتا ہے اور یہ اُسی وقت تک ہوتا ہے جب تک وہ معاملہ در پیش نہیں ہوتا لیکن جب وہ معاملہ آجاتا ہے تو اس میں تبدیلی واقع ہوتی ہے اور اپنے قول سے پھرجاتا ہے ، اور اس بات کی معرفت اسی شخص کو ہوسکتی ہے جو شیطان اور نفس کے مکرو فریب کو جانتا ہو اور اس سلسلے میں اسے کافی تجربہ ہو۔
تو میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! حقیقتِ اخلاص کی معرفت اور اس پر عمل ایک گہرا سمندر ہے اس میں اکثر لوگ ڈوب جاتے ہیں محض اِکّادُکّا ہی محفوظ رہتے ہیں قرآن مجید کی اس آیت میں اس استثناء کا ذکر ہے ، چنانچہ اللہ ربّ العزّت کا فرمان برأت نشان ہے: