| فیضانِ اِحیاءُ العُلوم |
پہلی صف میں دیکھتے تھے تو اس سے مجھے خوشی ہوتی تھی اور یہ بات میرے لئے راحتِ قلبی کا سبب تھی لیکن مجھے اس کی خبر نہ تھی '' اور یہ ایک باریک اور پوشیدہ بات ہے کہ اس جیسی باتوں سے بہت کم اعمال محفوظ ہوتے ہیں اور اس بات سے صرف انہی لوگوں کو آگاہی ہوسکتی ہے جنہیں اللہ تعالیٰ اس بات کی توفیق عطا فرماتا ہے۔ اور جو لوگ اس سے غافل ہیں وہ قیامت کے دن اپنی تمام نیکیوں کو گناہوں کی شکل میں پائیں گے اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد گرامی سے وہی لوگ مراد ہیں۔
وَ بَدَا لَہُمۡ مِّنَ اللہِ مَا لَمْ یَکُوۡنُوۡا یَحْتَسِبُوۡنَ ﴿۴۷﴾وَ بَدَا لَہُمْ سَیِّاٰتُ مَا کَسَبُوۡا
ترجمہ کنز الایمان: ''اور انہیں اللہ کی طرف سے وہ بات ظاہر ہوئی جو انکے خیال میں نہ تھی 'اور ان پر اپنی کمائی ہوئی برائیاں کھل گئیں'' (پارہ۲۴ 'سورہ زمر' آیت ۴۷،۴۸) اور اللہ (عزوجل)کا فرمان عبرت نشان ہے:
قُلْ ہَلْ نُنَبِّئُکُمْ بِالْاَخْسَرِیۡنَ اَعْمَالًا ﴿۱۰۳﴾ؕاَلَّذِیۡنَ ضَلَّ سَعْیُہُمْ فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَ ہُمْ یَحْسَبُوۡنَ اَنَّہُمْ یُحْسِنُوۡنَ صُنْعًا ﴿۱۰۴﴾
ترجمہ کنز الایمان: ''تم فرماؤ کیا ہم تمہیں بتادیں کہ سب سے بڑھ کر ناقص عمل کن کے ہیں ان کے جن کی ساری کوشش دنیا کی زندگی میں گم گئی اور وہ اس خیال میں ہیں کہ ہم اچھا کام کر رہے ہیں'' (پارہ ۱۶ سورہ کہف' آیت ۱۰۳،۱۰۴) اور اس فتنے کا زیادہ تر شکار علماء ہیں کیوں کہ ان میں سے اکثر اپنے علم کو پھیلانے سے غلبے کی لذت دوسروں کواپنا فرمانبردار بنانے کی خوشی اور تعریف سے سرور محسوس کرتے ہیں۔ اور شیطان ان کو دھوکے میں ڈالتے ہوئے کہتا ہے تمہاری غرض تو دین خداوندی پھیلانا اور رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے لائے ہوئے دین سے مخالفوں کو دور کرنا ہے اور ایسے مبلغین لوگوں اور بادشاہوں کی خیر خواہی اور وعظ و نصیحت کا (معاذ اللہ) اللہ تعالی پر احسان جتاتے ہیں او راس بات پر خوش ہوتے ہیں کہ لوگ ان کی بات کو قبول کرتے ہیں اور ان کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور مبلغ دعوٰی کرتا ہے کہ میری خوشی کا سبب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دین کی نصرت میرے لئے آسان کردی ۔ حالانکہ اگر اس کا کوئی ہمعصر اس سے اچھا بیان کرتا ہو اور لوگ اِس سے ہٹ کر اُس کی طر ف متوجہ ہوجائیں تو یہ بات اسے بری لگتی ہے اور وہ غمگین ہوجاتا ہے ۔ اگر اس کے بیان کا باعث دین نہیں ہوتا تو وہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یہ کام دوسرے کے سپرد کر دیا ۔اس کے باوجود شیطان اُس کا پیچھا نہیں چھوڑتا اور کہتا ہے کہ تیرے غم کا سبب تو یہ ہے کہ تجھ سے ثواب چلا گیا تو اس لئے غمگین نہیں کہ لوگ تجھے چھوڑ کر دوسری طرف چلے گئے ۔ کیوں کہ اگر وہ تیری بات سے نصیحت حاصل کرتے تو ثواب تجھے ہوتا اور تیرا ثواب کے چلے جانے پر غمگین ہونا اچھا ہے اور اس بیچارے کومعلوم نہیں کہ اس