Brailvi Books

فیضانِ اِحیاءُ العُلوم
54 - 325
صادر ہو سکتی ہے جو رب کائنات (عزوجل)سے سچی محبت کرتا ہے ، اسکا عاشق زار ہے اور فکر آخرت میں اس قدر گرفتا رہے کہ اسکا دل دنیا کی محبت سے بیزار ہے اور دنیا کی محبت کیلئے دل میں کوئی جگہ موجود نہیں حتی کے اسے کھانے پینے کی طرف رغبت نہیں ہوتی بلکہ اس سلسلے میں اسکی رغبت محض اتنی ہوتی ہے جس سے ضرورت پوری ہو جائے کہ یہ ایک فطری امر ہے لہٰذا وہ کھانے کی خواہش اسلئے نہیں کرتا کہ یہ کھانا ہے بلکہ اس لئے کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت پر قدرت حاصل ہوسکے ۔

وہ تمنّا کرتا ہے کہ کاش وہ بھوک کی آفت سے محفوظ ہو جائے ، تاکہ اسے کھانے کی ضرورت ہی نہ پڑے چنانچہ اسکے دل میں ضرورت سے زائد چیزوں کیلئے کوئی جگہ نہیں ہوتی اور ضرورت کی چیزوں کی طلب بھی محض اس وجہ سے ہوتی ہے کہ یہ اسکے دین کی ضرورت ہے اسے اگرفکر ہوتی ہے تو صرف فکر الٰہی پس ایسا شخص جب کھاتا، پیتا یا قضائے حاجت کیلئے جاتا ہے تو تمام حرکات و سکنات میں اسکا عمل خالص اور نِیّت درست ہوتی ہے مثلا وہ اس نِیّت سے سوتا ہے تاکہ آرام حاصل کر کے عبادت کیلئے تیار ہو جائے ۔ تو اسکا سونا بھی عبادت ہے اور اس معاملے میں اسے مخلصِین کا درجہ حاصل ہوتاہے ۔

لیکن جس شخص کی حالت ایسی نہ ہو اس پر اعمال کے سلسلے میں اخلاص کا دروازہ بند رہتا ہے البتہ کبھی کبھار اسے یہ دولت نصیب ہوتی ہے ۔ اور جس طرح وہ آدمی جس پر اللہ تعالیٰ اور آخرت کی محبت غالب ہو اسکی عام حرکات میں بھی یہی رنگ جھلکتا ہے اور وہ مجسَّم اخلاص بن جاتا ہے اسی طرح وہ آدمی جسکے نفس پر کوئی دنیوی شئے مثلا ، دنیوی اقتدار، طاقت اور بلند مرتبہ وغیرہ کوئی ایسی شئے غالب آجائے جسکا رب (عزوجل) سے کوئی تعلق نہ ہو تو اسکی تمام حرکات میں بھی یہی رنگ جھلکتا ہے ، حتی کہ اسکی عبادتیں بھی اس ملاوٹ سے کم ہی محفوظ رہتی ہیں۔
اخلاص کس طرح حاصل ہوتا ہے :
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! پس اخلاص اسطرح حاصل ہوتا ہے کہ نفسانی خواہشات پر قابو پالیا جائے اور دنیاکی طمع کو ختم کر کے صرف آخرت کو پیش نظر رکھا جائے یعنی وہی دل پر غالب ہو اس وقت اخلاص آسان ہوگا کتنے ہی اعمال ایسے ہیں جن میں انسان تھکاوٹ برداشت کرتا ہے اور اس کے خیال میں یہ کام صرف اللہ تعالیٰ کی رضاکیلئے ہوتا ہے حالانکہ وہ اس سلسلے میں دھوکے کا شکار ہوتا ہے کیوں کہ ان میں آفت کی وجہ اسے معلوم نہیں ہوتی۔

جیسے کہ کسی بزرگ (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) کے بارے میں منقول ہے انہوں نے فرمایا ''میں نے تیس سال کی نمازیں جومیں پہلی صف میں پڑھتا تھا، دوبارہ پڑھیں کہ ایک دن کسی عذر کی وجہ سے مجھے تاخیر ہوگئی اور میں نے دوسری صف میں نماز پڑھی اس سے مجھے لوگوں کے سامنے شرمندگی ہوئی کہ انہوں نے مجھے دوسری صف میں دیکھا اس سے مجھے معلوم ہوا کہ جب لوگ مجھے
Flag Counter