Brailvi Books

فیضانِ اِحیاءُ العُلوم
53 - 325
دیکھیں ۔

بہر حال جب کسی عمل کا باعث تقرب خداوندی ہو لیکن اسکے ساتھ اس قسم کے مذکورہ امور میں سے بھی کوئی بات ملی ہوئی ہو تو اور اس شخص پر ان امور کی شرکت کی وجہ سے عمل کرنے میں آسانی پیدا ہوجائے اب اسکا عمل مخلَص نہ رہا۔بلکہ اسمیں شرکت پائی گئی اور اللہ تبارک و تعالیٰ کے فرمان کا مفہوم ہے کہ میں ہر اس شخص سے بڑھ کر بے نیاز ہوں جو شرکت سے بے نیاز ہو۔
خلاصہ :
یہ ہوا کہ وہ تمام دنیاوی فوائد جن سے نفس کو آرام ملتا ہے اور دل ان کاموں کی طرف مائل ہوتا ہے خواہ وہ کام کم ہوں یا زیادہ جب کسی عمل میں پائے جائیں تو وہ عمل صاف اور خالص نہیں رہتا اور انسان کی حالت تو یہ ہے کہ دنیا وی مفادات سے بندھا، نفسانی خواہشات کے سمندر میں غرق ہے اور بہت کم اسکا فعل یا عبادت اس قسم کے فوائد اور اغراض سے خالی ہوتے ہیں اسی لئے کہا گیا ہے کہ جس شخص کی زندگی کا ایک لمحہ بھی خالص رضائے الٰہی میں گزرا وہ نجات پا گیااور یہ بات اسلئے ہے کہ خلوص بہت نادر اور ان ملاوٹوں سے دل کا پاک وصاف ہونا نہایت مشکل ہے ۔

چنانچہ خالص تو وہ عمل ہے جسکا باعث صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کے قرب کی طلب ہو اور اگر کسی عمل کا باعث مذکورہ بالا ملاوٹوں ہی میں سے کوئی ہو تو ایسے شخص کا معاملہ کتنا خطر ناک ہوگالیکن فی الحال ہمارے پیش نظر وہ صورتیں ہیں کہ جب بندے کا مقصد اصلی صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنا ہو پھر اسکے عمل میں مذکورہ ملاوٹیں شامل ہو جائیں تو کیا ہوگا؟

اور نِیّت کے باب میں یہ کہہ چکے ہیں کہ یہ ملاوٹ یا تو موافقت کے درجے میں ہوگی یا شرکت یا مددواعانت کے طور پر ہوگی۔

نتیجہ یہ ہوا کہ باعثِ نفسی (یعنی نفس کی اپنی کوئی خواہش جو عمل کی طرف ابھارے) باعثِ دینی(یعنی حصول قرب خداوندی کی تمنّا)کے برابر ہو یا اس سے زیادہ قوی ہو یا کمزور ہو اور ہر ایک کا حکم الگ ہے جسے ہم عنقریب بیان کریں گے ۔
اخلاص کا مطلب :
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! بہر حال اخلاص کا مطلب یہ ہے کہ عمل ان تمام ملاوٹوں سے پاک ہو۔ ملاوٹ خواہ کم ہو یا زیادہ یہاں تک کہ صرف اﷲ (عزوجل)کے قرب کی خواہش کے علاوہ عمل پر اسے کوئی شئے نہ ابھارے اور یہ بات اسی شخص سے
Flag Counter