لیجئے جو حدیث پاک میں وارد ہوئی ہے کہ قیامت کے دن ریاکار کو چار ناموں سے پکارا جائے گا، اے ریاکار، اے دھوکے باز،اے مشرک اور اے کافر(الجامع لاحکام القرآن، ج اوّل، ص ۱۹، مقدمۃ الکتاب)
اس وقت ہم جو گفتگو کر رہے ہیں وہ اس سلسلے میں ہے کہ انسان کا مقصد قرب خداوندی (عزوجل) ہو لیکن اس میں کوئی دوسرا باعث مثلا ریاکاری یا نفسانی فوائد وغیرہ شامل ہو جائیں۔ اسکی مثال یوں سمجھئے کہ کوئی شخص تقرّب الٰہی کیلئے روزہ رکھے لیکن ضمنی طور پر معدے کو آرام پہنچانے کا فائدہ بھی حاصل کرنا چاہتا ہویا غلام آزاد کرے اور ضمنی طو رپہ یہ ارادہ بھی کرے کہ اس طرح غلام کی بد اخلاقی اور اخراجات سے چھٹکارا حاصل ہو جائے گا یا حج کرے اور ضمنی طور پہ یہ سوچے کے سیر کرنے سے مزاج اعتدال پر آجائے گا یا اپنے شہر میں پائے جانے والے کسی شر سے محفوظ رہے گایا اس شہر میں کوئی دشمن موجود ہے جس سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہتا ہے یا بیوی بچوں یا کسی دوسرے کام سے تھک چکا ہے اور کچھ دن آرام کرنا چاہتا ہے۔
ایک مثال یہ بھی ہے کہ کوئی شخص جہاد کرتا ہے اور اسکے ساتھ ساتھ فن سپہ گری میں مہارت حاصل کرنا چاہتا ہے یا لشکر وغیرہ کی تیار ی کا ڈھنگ سیکھنا چاہتا ہے یا کوئی شخص رات کو نماز پڑھتا ہے او رایک مقصد یہ بھی ہے کہ فی الوقت یہ سونا نہیں چاہتا ہے یا گھر والوں اور سامان کی حفاظت کرنا چاہتا ہے یا کوئی طالب علم اسلئے علم حاصل کرتا ہے کہ اس علم کے ذریعے اسے کچھ ما ل (عزوجل) آسانی سے حاصل ہو سکتاہے یا خاندان میں عزّت یا علم کی عزّت کے باعث لالچی لوگوں سے اسکی زمین اور مال محفوظ رہیں۔
یا کوئی شخص درس و تدریس یا وعظ و نصیحت میں مصروف ہوتا ہے اور ان کاموں سے اسکا ایک مقصد خاموشی کی تکلیف سے جان چھڑانا اور باتیں کرنے کی لذّت حاصل کرنا ہوتاہے یا کوئی شخص علماء و صوفیاء (رحمہم اللہ تعالیٰ ) کی خدمت اسلئے بھی کرتا ہو کہ دنیا میں اسکی عزت کی جائے گی یا اسکے ساتھ نرمی کا برتاؤ کیا جائیگا۔
یا کوئی شخص قرآن مجید اسلئے لکھتا ہو کہ بار بار کی کتابت سے لکھائی اچھی ہو جائے گی یا کوئی آدمی پیدل حج اسلئے کرے کہ کرایہ بچ جائے یا وضو اسلئے کرتا ہے کہ بدن صاف ہو جائے یا ٹھنڈک حاصل ہوغسل اسلئے کرتا ہے کہ بدن کی بو دور ہو یا حدیث پاک اسلئے روایت کرتا ہے تاکہ عمدہ اور اعلیٰ سند کا علم ہو یا مسجد میں اعتکاف کرتا ہے تاکہ گھر کے کرائے میں خفیف ہو جائے یا روزہ رکھتا ہے تاکہ کھانے پکانے کے جھنجٹ سے بچ جائے۔
یا اسلئے کے دوسرے کاموں کیلئے فرصت مل جائے یا کوئی شخص سائل سے پیچھا چھڑانے کے لےئے صدقہ کرتا ہے یا کسی مریض کی بیمار پرسی اسلئے کرتا ہے کہ اگر وہ بیمار ہو تو اسکی بیمار پرسی کی جائے یا جنازے میں اسلئے جاتا ہے تاکہ لوگ اسکے جنازے میں بھی شرکت کریں یا ان کاموں میں کوئی کام اسلئے کرتا ہے کہ اسکی نیک نامی ہوجائے اور لوگ اسے اچھی نگاہ سے