Brailvi Books

فیضانِ اِحیاءُ العُلوم
51 - 325
فصل ۔۔۔۔۔۔۲

                               حقیقت اخلاص:
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! ملاوٹ تقریبًا ہر شئے میں ممکن ہے تو جب کوئی چیز ملاوٹ سے پاک ہو تو اسے خالص کہتے ہیں اور جس عمل کے ذریعے اسے خالص بنایا جاتا ہے وہ اخلاص کہلاتا ہے۔اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمانِ عالی شان ہے۔
نُسْقِیۡکُمۡ مِّمَّا فِیۡ بُطُوۡنِہٖ مِنۡۢ بَیۡنِ فَرْثٍ وَّدَمٍ لَّبَنًا خَالِصًا سَآئِغًا لِّلشّٰرِبِیۡنَ ﴿۶۶﴾
ترجمہ کنزالایمان: ''ہم تمہیں پلاتے ہیں اس چیز میں سے جو انکے پیٹ میں ہے گوبر اور خون کے بیچ میں سے خالص دودھ گلے سے سہل اترتا پینے والوں کیلئے'' ۔

دودھ کا خالص ہونا یہ ہے کہ اس میں خون اور گوبر بلکہ کسی ایسی چیز کی ملاوٹ نہ ہو جو اس میں مل سکتی ہو۔ اخلاص کی ضد ہے شریک کرنا چنانچہ جو شخص مخلص نہیں ہوتا وہ لغوی طور پرمشرک ہوتا ہے۔البتہ شرک کے کئی درجات ہیں۔(پارہ۱۴ سورہ نحل آیت ۶۶)
شرک کے درجات:
توحید میں اخلاص کی ضد یہ ہے کہ الوہیت (یعنی معبود ہونے )میں کسی کو اﷲ (عزوجل) کا شریک مانا جائے ۔شرک خفی (پوشیدہ )بھی ہوتا ہے اور جلی (ظاہر)بھی اسی طرح اخلاص کا معاملہ ہے ۔ دوسری بات یہ کہ اخلاص اور شرک دونوں کا تعلق دل سے ہوتا ہے ۔ یہ دونوں دل پر وارد ہوتے ہیں لہٰذا دل ان دونوں کا محل ہوتا ہے اور انکے وارد ہونے کا تعلق ارادے اور نِیّت سے ہے اور نِیّت کی حقیقت ہم بیان کر چکے ہیں اور یہ بھی سمجھا چکے ہیں کہ نِیّت عمل کی طرف ابھارنے والی غرض کے موافق ہوتی ہے ۔

چنانچہ جب عمل کی طرف ابھارنے والا صرف ایک ہو تو اسکی وجہ سے فعل صادر ہوگا وہ خالص ہوگا اور اسکا تعلق نِیّت سے ہے لہٰذا جو شخص صَدَقہ کرے اور اسکی نِیّت اور غرض دکھاوا ہو تووہ شخص خالص ریاکار ہے ۔لیکن عام بول چال میں اخلاص کا لفظ اس عمل پر بولا جاتا ہے جس کا مقصد صرف قرب الٰہی ہواور اس میں کسی دوسری نِیّت کی ملاوٹ نہ ہوجسطرح ''اِلْحَاد ''کا لغوی معنی میلان او ر جھکاؤ ہے لیکن عرف عام میں راہ حق سے بھٹک جانے کو الحاد کہتے ہیں اسلئے جس فعل کا باعث محض ریاکاری ہووہ ہلاکت کا باعث ہے لیکن یہاں ہم ریاکار کے متعلق گفتگو نہیں کر رہے اُس سلسلے میں ایک آسان سی بات سمجھ
Flag Counter