حضرت سَیِّدُنَا سر ی سقطی(رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ)فرماتے ہیں'' اگر تم اخلاص کے ساتھ تنہائی میں دو رکعتیں پڑھ لو تو یہ بات تمہارے لئے ستّر یا سات سو عمدہ سند کی حدیثیں لکھنے سے بہتر ہے ''۔ ایک دوسرے بزرگ (رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ) کا قول ہے ایک گھڑی کا اخلاص بھی ہمیشہ کی نجات کا باعث ہے لیکن اخلاص بہت ہی کم پایا جاتا ہے۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! کہا جاتا ہے کہ علم بیج ہے ، عمل کھیتی اور اخلاص اسکا پانی بعض بزرگان دین (رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہم) فرماتے ہیں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ جب کسی بندے کو ناپسند فرماتا ہے تو اسے تین باتیں عطا کرتا ہے لیکن اسکے ساتھ ساتھ تین باتوں سے محروم کر دیتا ہے۔(۱)اسے صالحین کی صحبت تو عطا فرماتا ہے لیکن وہ انکی کوئی بات قبول نہیں کرتا۔(۲)اسے اچھے اعمال کی توفیق دیتا ہے لیکن وہ انہیں اخلاص سے نہیں کرتا۔(۳) حکمت تو عطا فرماتا ہے لیکن سچائی سے محروم کر دیتا ہے۔
مشہور بزرگ حضرت سَیِّدُنَا موسیٰ (رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ) فرماتے ہیں بندوں کے اعمال میں سے اللہ تبارک و تعالیٰ صر ف اخلاص کی طرف توجہ فرماتا ہے ۔
اور حضرت سَیِّدُنَا جنید بغدادی(رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) کا فرمان ہے''اللہ تعالیٰ کے کچھ بندے ایسے ہیں جو عقلمند ہیں چنانچہ وہ عمل کرتے ہیں اور انکے اعمال میں اخلاص موجود ہوتا ہے۔ پھر وہ اخلاص انکے لئے دیگر نیکیوں کا حصول آسان بنا دیتا ہے''۔
حضرت سَیِّدُنَا محمد بن سعید مروزی(رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ)فرماتے ہیں''تمام معاملات میں بنیادی باتیں صرف دو ہیں ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ کیا سلوک کرتا ہے؟ دوسرا یہ کہ تم اسکے ساتھ کیسا برتاؤ اختیار کرتے ہو؟۔تو دونوں جہانوں کی کامیابی اس میں ہے کہ تم اسکے سلوک پر راضی ہو جاؤ (یعنی ہميشہ راضی برضا رہو)اور اپنی طرف سے یہ سلوک کرو کہ اپنے کاموں میں اخلاص پیدا کرو''۔