| فیضانِ اِحیاءُ العُلوم |
کسی ولی کامل (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ)نے اپنے بھائی کو خط لکھا '' اپنے اعمال میں اخلاص نِیّت اختیار کرو تمہیں تھوڑا عمل بھی کفایت کریگا ''۔ اور حضرت سَیِّدُنَا ایوب سختیانی (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ)فرماتے ہیں ' عمل کرنے والوں کیلئے سب سے زیادہ مشکل کام نِیّت کو خالص کرنا ہے '' اور حضرت سَیِّدُنَا مطرف(رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ) فرماتے تھے ، جو آدمی خالص نِیّت رکھتا ہواسکا اجر بھی خالص ہوتا ہے اور جسکی نِیّت میں جس قسم کی ملاوٹ ہو اسی قسم کا بدلہ اسے دیا جاتا ہے ۔
گدھا کہاں گیا :
کسی بزرگ (رحمہ اللہ تعالیٰ) کو خواب میں دیکھا گیا تو پوچھا کہ آپ (رحمہ اللہ تعالیٰ) نے اپنے اعمال کو کیسا پایا، فرمانے لگے ، میں نے جو عمل بھی اللہ تعالیٰ کیلئے کیا تھا اسکا اجر پایا۔ حتی کہ انار کا ایک دانہ جو ایک مرتبہ راستے سے ہٹایا تھا اور ہماری ایک بلی مر گئی تھی (تو اسکے رنج و صدمے کے ثواب کو بھی) میں نے اپنی نیکیوں میں پایا اور میری ٹوپی میں ایک دھاگہ ریشم کا تھا تو میں نے اسے برائیوں کو پلڑے میں دیکھا ، اور میرا ایک گدھا جسکی قیمت ایک سو دینار تھی تو میں نے اسکا ثواب نہ پایا تو پوچھا ، کہ بلی کی موت کاثواب تو نیکیوں کے پلڑے میں ہے اور گدھے کی موت والا ثواب نہیں ،اسکی کیا وجہ ہے؟ تو مجھے بتایا گیا کہ اس گدھے کا ثواب وہاں بھیجا گیا جہاں تو نے بھیجا تھا ۔کیونکہ جب تجھے تیرے گدھے کے مرنے کی اطلاع دی گئی تو تو نے کہا تھا اللہ کی لعنت میں گیا چنانچہ اس وجہ سے تیرا اجر باطل ہو گیا ۔ اور اگر تم یہ کہتے کہ اللہ کے راستے میں گیا تو اسے اپنی نیکیوں میں پاتے ۔(اسی وجہ سے ہمیں ہر مصیبت پر ''اِنَّا لِلّٰہِ۔۔۔۔۔۔'' پڑھ لینا چاہئے) ایک روایت میں ہے کہ انہی بزرگ نے یہ بھی ارشاد فرمایا،کہ میں نے ایک مرتبہ صدقہ اخلاص کے ساتھ لوگوں کے سامنے دیا اور لوگوں کا دیکھنا مجھے اچھا لگا تو اس کا مجھے نہ تو کوئی ثواب ملا نہ عذاب۔ یہ بات سن کر حضرت سَیِّدُنَا سفیان ثوری(رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ)فرمانے لگے یہ تو ان کی خوش نصیبی ہے کہ عذاب نہ ہوا بلکہ یہ تو عین احسان ہے ۔ اور حضرت سَیِّدُنَا یحییٰ بن مَعاذ(رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) فرماتے ہیں'' اخلاص اعمال کو عیبوں سے اس طرح ممتاز کر دیتا ہے جسطرح دودھ گوبر اور خون میں سے نکل کر آتا ہے لیکن صاف ستھرا ہوتا ہے ۔ مروی ہے کہ ایک شخص عورتوں کا لباس پہن کر عورتوں کے اجتماعات میں جاتا تھا اور انکی غمی و خوشی کی تقریبات میں شریک ہو تا تھا ایسی ہی کسی محفل میں ایک مرتبہ وہاں ایک قیمتی موتی چوری ہو گیااور آواز دی گئی کہ دروازہ بند کرکے ایک ایک کی تلاشی لو حتی کہ اس شخص کے برابر والی عورت کی باری آئی تو اس شخص نے بڑے اخلاص کے ساتھ اللہ (عزوجل)سے دعا مانگی '' یا اللہ(عزوجل) آج اگر ذلت سے چھٹکارا عطا فرمادے تو پھر کبھی ایسا کام نہیں کرو ں گا۔تو وہ موتی برابر والی عورت کے پاس