Brailvi Books

فیضانِ اِحیاءُ العُلوم
47 - 325
کے نیچے دیکھا تو وہاں کچھ نہ تھا اب تو عابد غصے آگ بگولہ ہو گیا ، کلہاڑا کندھے پر رکھا اور درخت کاٹنے کیلئے چل پڑا ۔ اب کی بار پھر شیطان اسکے راہ میں حائل ہوا اور پوچھا کہ کہا ں کا ارادہ ہے عابد نے کہا بس اب میں درخت ضرور کاٹوں گا شیطان نے کہا خدا کی قسم اب تم درخت نہیں کاٹ سکتے چنانچہ پہلے کی طرح عابد نے شیطان کو پکڑا اور زمین پر پٹخ دینا چاہا لیکن اس مرتبہ شیطان نے اسے کسی چڑیا کی طرح دبوچا اور زمین پر پٹخ کر اسکے سینے پر سوار ہو گا او خوفناک لہجے میں بولا اپنے ارادے سے باز آجا ورنہ میں تیرا گلا کاٹ دوں گا ۔

یہ معاملہ دیکھ کر عابد کے ہوش گم ہو گئے اور وہ تھر تھر کانپتے ہو ئے بولا ، اے شخص پہلے تو میں تجھ پہ غالب آیا کرتا تھا لیکن اس مرتبہ تو مجھ پر غالب آگیا ہے اس کی کیا وجہ ہے ۔ اس پر شیطان نے جو جواب دیا وہ گرہ میں باندھ لینے کے قابل ہے شیطان بولا، پہلی دو مرتبہ تمہیں جو غصہ تھا وہ محض اللہ (عزوجل) کی خاطر آیا تھا اور تم آخرت کے ثواب کی نِیّت کیے ہوئے تھے اسی لئے اللہ (عزوجل) نے تمہیں مجھ پر غلبہ عطا فرمایا تھا لیکن اس مرتبہ تمہیں جو غصہ آیا اسکا سبب کچھ اور نہیں بلکہ صرف دیناروں کی عدم دستیابی تھی چنانچہ تمہارا غصہ محض اپنی ذات اور دنیا کی خاطر تھا اس لئے میں نے باآسانی تمہیں زیر کر لیا ۔

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اس حکایت نے اللہ (عزوجل)کے سچے کلام کی تصدیق کر دی ارشاد باری تعالیٰ:
اِلَّا عِبَادَکَ مِنْہُمُ الْمُخْلَصِیۡنَ
ترجمہ کنز الایمان: ''مگر جو ان میں تیرے چنے ہوئے بندے ہیں'' (پارہ ۲۳ سورہ ص ' آیت ۸۳)

کیونکہ انسان کو شیطان سے صرف اخلاص ہی کی بدولت چھٹکارا ملتا ہے اسی لئے حضرت سَیِّدُنَا معروف کرخی (رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ) اپنے آپ کو زود کوب کرتے ہوئے اپنے نفس کو ڈانٹا کرتے تھے کہ اے نفس اخلاص کو اختیار کر لے تاکہ تو چھٹکارا پائے ۔

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اخلاص کیا ہے ؟ آئیے مشہور بزرگ حضرت سَیِّدُنَا یعقوب مکفوف(رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ)سے سنتے ہیں۔آپ (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ)فرماتے ہیں کہ مخلص وہ شخص ہے جو اپنی نیکیوں کو بھی اسی طرح چھپائے جیسے اپنے گناہوں کو چھپاتا ہے ۔

اورحضرت سَیِّدُنَا سلیمان (رحمہ اللہ تعالیٰ) مخلصین کو بشارت دیتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں، کہ خوشخبری ہے اس شخص کیلئے جسکا ایک قدم بھی صحیح ہو جائے جس سے وہ محض رضائے الٰہی کا ارادہ کرے ۔

خلیفہ دوئم حضرت سَیِّدُنَا عمر بن خطّاب (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ)نے حضرت سَیِّدُنَا ابو موسیٰ اشعری(رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ)کو ایک مرتبہ کچھ اس طرح کی تحریر بھیجی کہ جسکی نِیّت صحیح ہو جائے اللہ تعالیٰ اسے اسکے ان معاملات میں کافی ہو جاتا ہے جو اسکے اور لوگوں کے درمیان ہوتے ہیں۔
Flag Counter