کے نیچے دیکھا تو وہاں کچھ نہ تھا اب تو عابد غصے آگ بگولہ ہو گیا ، کلہاڑا کندھے پر رکھا اور درخت کاٹنے کیلئے چل پڑا ۔ اب کی بار پھر شیطان اسکے راہ میں حائل ہوا اور پوچھا کہ کہا ں کا ارادہ ہے عابد نے کہا بس اب میں درخت ضرور کاٹوں گا شیطان نے کہا خدا کی قسم اب تم درخت نہیں کاٹ سکتے چنانچہ پہلے کی طرح عابد نے شیطان کو پکڑا اور زمین پر پٹخ دینا چاہا لیکن اس مرتبہ شیطان نے اسے کسی چڑیا کی طرح دبوچا اور زمین پر پٹخ کر اسکے سینے پر سوار ہو گا او خوفناک لہجے میں بولا اپنے ارادے سے باز آجا ورنہ میں تیرا گلا کاٹ دوں گا ۔
یہ معاملہ دیکھ کر عابد کے ہوش گم ہو گئے اور وہ تھر تھر کانپتے ہو ئے بولا ، اے شخص پہلے تو میں تجھ پہ غالب آیا کرتا تھا لیکن اس مرتبہ تو مجھ پر غالب آگیا ہے اس کی کیا وجہ ہے ۔ اس پر شیطان نے جو جواب دیا وہ گرہ میں باندھ لینے کے قابل ہے شیطان بولا، پہلی دو مرتبہ تمہیں جو غصہ تھا وہ محض اللہ (عزوجل) کی خاطر آیا تھا اور تم آخرت کے ثواب کی نِیّت کیے ہوئے تھے اسی لئے اللہ (عزوجل) نے تمہیں مجھ پر غلبہ عطا فرمایا تھا لیکن اس مرتبہ تمہیں جو غصہ آیا اسکا سبب کچھ اور نہیں بلکہ صرف دیناروں کی عدم دستیابی تھی چنانچہ تمہارا غصہ محض اپنی ذات اور دنیا کی خاطر تھا اس لئے میں نے باآسانی تمہیں زیر کر لیا ۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اس حکایت نے اللہ (عزوجل)کے سچے کلام کی تصدیق کر دی ارشاد باری تعالیٰ: