Brailvi Books

فیضانِ اِحیاءُ العُلوم
46 - 325
(عزوجل) کی عبادت کی پھر اسے کچھ لوگوں نے خبر دی کہ فلاں جگہ کچھ لوگ ایک درخت کی پوجا کرتے ہیں یہ سن کر اسے بہت غصہ آیا اور وہ درخت کاٹنے کے ارادے سے کلہاڑا اپنے کاندھے پر رکھ کر اس درخت کی طرف روانہ ہوا راستے میں شیطان ایک بزرگ کی صورت میں اسکے سامنے آیا اور اسکا ارادہ دریافت کیا اسنے کہا میں اس درخت کو کاٹنے جا رہا ہوں ۔ 

شیطان نے کہا تجھے اس درخت سے کیا غرض تو اپنی عبادت اور نفس کی مشغولیت کو چھوڑ کر دوسروں کاموں میں کیوں دخل دیتا ہے۔ عابد نے جواب دیا یہ کام بھی میرے لئے عبادت کا درجہ رکھتا ہے ۔ شیطان نے تیور بدل کر کہا لیکن میں ہر گز تجھے درخت نہیں کاٹنے دوں گا چنانچہ دونوں میں جھگڑا ہونا شروع ہو گیا کچھ دیر بعد عابد نے شیطان کو زمین پر دے مارا اور اسکے سینے پر چڑھ بیٹھا ۔ شیطان نے کہا ، مجھے چھوڑ دے میں تجھ سے ایک بات کہنا چاہتا ہوں۔ 

عابد نے اسے چھوڑ دیا تو کہنے لگا ، اے بھلے مانس اللہ تعالیٰ نے تو یہ کام تجھ پہ فرض نہیں کیا ،تو اس کی پوجا بھی نہیں کرتا پھر بھلا دوسرے کی پوجا کا گناہ تجھے کیوں ملے گااور پھر دنیا میں اللہ تعالیٰ کے بے شمار انبیاء کرام (علیہم السلام) ہیں اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو انہیں درخت کاٹنے کا حکم فرما دیتا۔عابد نے غصے سے کہا ، میں اسے ضرور کاٹوں گا پھر دونوں میں لڑائی ہونے لگی اور عابد نے ایک مرتبہ پھر اسے پچھاڑ دیا ۔جب ابلیس عاجز آگیا تو اس نے ایک نئی چال چلی اور کہنے لگا کہ آؤ ہم ایک بات پر فیصلہ کر یں۔ اس میں تمہارا بہت فائدہ ہے عابد نے کہا وہ کیا، شیطان بولا تم ایک فقیر آدمی ہو تمہارے پاس کچھ نہیں تم دوسروں پر بوجھ بنے رہتے ہو اور دوسرے تمہاری خبر گیری کرتے ہیں کیا تمہیں کبھی یہ خیال نہیں آتا کہ تم اپنے بھائیوں سے اچھا سلوک کرو، پڑوسیوں کی غم خواری کرو اور لوگوں کی مدد سے بے نیاز ہو جاؤ ؟ عابد نے جواب دیا ، ہاں یہ بات تو ہے۔ 

شیطان نے کہا تو بس ٹھیک ہے تم درخت کاٹنے کا ارادہ ترک کردو تو میں ہر رات دو دینار تمہارے سرہانے رکھ دیا کروں گا۔ جب صبح اٹھو تو ایک اپنے اوپر خرچ کرو اور ایک اپنے بھائیوں پر صدقہ کردو۔تو یہ تمہارے لئے اس درخت کہ کاٹنے سے زیادہ نفع بخش ہے کیونکہ اگر تم درخت کاٹ بھی دو تب بھی درخت کے پجاری اسکی جگہ کوئی دوسرا درخت لگا لیں گے اور اس طریقے سے نہ تو تمہارا کوئی فائدہ ہوگا اور نہ تمہارے بھائیوں کا بھلا ہو سکے گا ۔ 

عابد شیطان کی بات سن کر سوچ میں پڑ گیا اور دل ہی دل میں کہنے لگا ۔۔۔۔۔۔ میں نبی نہیں ہوں کہ اس درخت کا کاٹنا مجھ پر لازم ہو ، مجھے بطور خاص اللہ(عزوجل) نے اس درخت کے کاٹنے کا حکم بھی نہیں دیا کہ میں نافرمانی کر کے گنہگار کہلاؤں اور جو کچھ یہ بزرگ فرماتے ہیں اس میں میرا اور میرے بھائیوں کا فائدہ ہی تو ہے لہٰذا اسے مان لینے میں کوئی حرج نظر نہیں آتا۔۔۔ چنانچہ عابد نے شیطان سے وعدہ کر لیا کہ وہ درخت نہیں کاٹے گا ۔ اور گھر کی طرف لوٹ گیا اگلی صبح اسکے تکیے کے نیچے دو دینارموجود تھے اب تو یہ خوشی سے پھولا نہ سمایا ۔ دوسرے دن بھی یہی معاملہ ہوا لیکن تیسرے دن جب تکیے