Brailvi Books

فیضانِ اِحیاءُ العُلوم
45 - 325
کہے گا، اے میرے رب (عزوجل)میں دن اور رات اس علم کی خدمت میں بسر کرتاتھا ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ فرمائے گا ، تو نے جھوٹ کہا اور فرشتے (علیہم السلام) بھی کہیں گے کہ تو جھوٹ بولتا ہے ، تیرا مقصد تو یہ تھا کہ تجھے عالم کہہ کہ پکارا جائے ، ایسا ہو چکا ہے (یعنی دنیا میں لوگ تجھے عالم کہتے تھے )۔ 

دوسرا وہ شخص ہوگا جسے رب کائنات(عزوجل) مال عطا فرمایا اس سے پوچھے گا میرے اس انعام کے جواب میں تونے کیا کیا ۔ وہ جواب دے گا، اے میرے رب (عزوجل)میں تیرے دیے ہوئے مال کو دن رات صدقہ کرتا رہتا تھا ۔ اللہ رب العزّت (عزوجل)فرمائے گا ، تو جھوٹ کہتا ہے اور ملائکہ(علیہم السلام)بھی کہیں گے تو جھوٹ کہتا ہے بلکہ تیرا مقصد تو اپنے آپ کو سخی کہلوانا تھا چنانچہ تجھے سخی کہہ لیا گیا ہے۔

پھر ایک تیسرا شخص اللہ (عزوجل) کی بارگا ہ میں پیش کیا جائیگاجسے راہ خدا(عزوجل) میں قتل کیا گیا ہوگا۔رب لم یزل(عزوجل)فرمائے گا تونے کیا کیا۔ وہ کہے گا، اے میرے مالک مجھے جہاد کا حکم دیا گیا ، میں تیری راہ میں لڑا یہاں تک کہ قتل کر دیا گیا ۔ رب قہّار (عزوجل)فرمائے گاتو جھوٹ کہتا ہے اور فرشتے (علیہم السلام) بھی کہیں گے تو جھوٹ بولتا ہے بلکہ تیرا ارادہ یہ تھا کہ تجھے بہادر کہا جائے سو تجھے بہادر کہہ لیا گیا ہے۔

حضرت سَیِّدُنَا ابو ھریرہ (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ)فرماتے ہیں کہ اتنا ارشاد فرماکر میرے آقا  صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے میری ران پر ایک لکیر کھینچی اور فرمایا ، اے ابو ھریرہ(رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ)یہ وہ لوگ ہیں کہ قیامت کے دن جہنم کی آگ سب سے پہلے ان پر بھڑکائی جائے گی ''۔

                 ( جامع ترمذی، ص ۳۴۳، ۳۴۴، ابواب الزھد)

جب اس حدیث کے راوی حضرت امیر مَعاویہ(رضی اﷲ تعالیٰ عنہ) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور یہ حدیث پاک بیان کی تو ان پر شدید گریہ طاری ہو گیا یہاں تک کہ لگتا تھا کہ خوف خدا(عزوجل) سے انکی روح پرواز کر جائے گی ۔

اللہ(عزوجل)کا ارشاد پاک ہے:
مَنۡ کَانَ یُرِیۡدُ الْحَیٰوۃَ الدُّنْیَا وَ زِیۡنَتَہَا نُوَفِّ اِلَیۡہِمْ اَعْمَالَہُمْ فِیۡہَا وَہُمْ فِیۡہَا لَا یُبْخَسُوۡنَ ﴿۱۵﴾
ترجمہ کنز الایمان: ''جو دنیا کی زندگی اور آرائش چاہتا ہو ہم اس میں اس کا پورا پھل دیں گے اور اس میں کمی نہ دیں گے''(پارہ۱۲' سورئہ ہود' آیت ۱۵)
دو دینار کی خاطر :
میٹھے میٹھے اسلامی بھائيو!بنی اسرائیل کی روایات میں سے ایک روایت یہ ہے کہ ایک عابد نے طویل عرصے تک اللہ
Flag Counter