| فیضانِ اِحیاءُ العُلوم |
اِنَّمَا نَصَرَ االلہُ عَزَّوَجَلَّ ھَذِہِ الْاَمَّۃَ بِضُعَفَائِھَا وَدَعْوَتِھِمْ وَاِخْلَاصِھِمْ وَصَلَاتِھِمْ۔
ترجمہـ:''اﷲ تعالیٰ نے اِس امت کی مدد اِس کے کمزوروں ' اُن کی دعاؤں، اخلاص اور اُن کی نمازوں کے ذریعے فرمائی ہے ''(السنن الکبری للبیہقی ) حضرت سیدناحسن بصری (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ نبی اکرم' نور مجسم ، شاہ بنی آدم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
یَقُوْلُ اللہُ تَعَالیٰ الْاِخْلاَصُ سِرٌّ مِّنْ سِرِّیْ اسْتَوْدَعْتُہٗ قَلْبَ مَنْ اَحْبَبْتُ مِنْ عِبَادِیْ۔
ترجمہ : ''یعنی اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے اخلاص میرے رازوں میں سے ایک رازہے جو میں نے اپنے ان بندوں کے دلوں میں بطور امانت رکھا ہے جن سے مجھے محبت ہے''۔ حضرت سیدناعلی المرتضٰی (کرَّم اللہُ تعالیٰ وجہہ الکریم)فرماتے ہیں، عمل کی فکر نہ کرو بلکہ اس کی قبولیت کی فکر کرو کیونکہ نبی کریم رؤف و رحیم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے حضرت سَیِّدُنَا مَعاذ بن جبل (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) سے فرمایا:
اِخْلِصِ الْعَمَلَ یُجْزِکَ مِنْہُ الْقَلِیْلُ
ترجمہ : ''یعنی اپنے عمل کو خالص کرو تھوڑا بھی کافی ہوگا'' (مستدرک حاکم، ج ۴، ص ۳۰۶، کتاب الرقاق)
حکمت کے چشمے :
نبیوں کے سالار ، سرکار ابد قرار، شافع روز شمار(علیہ و علیہم الصلوٰۃ والسلام) کا فرمان رحمت بار ہے:
مَا مِنْ عَبْدٍ یَخْلِصُ لِلّٰہِ الْعَمَلَ اَرْبَعِیْنَ یَوْمًا اِلاَّ ظَھَرَتْ یَنَابِیْعُ الْحِکْمَۃِ مِنْ قَلْبِہٖ عَلَی لِسَانِہٖ
ترجمہ : ''یعنی جوبندہ چالیس دن خالص اللہ تعالیٰ کیلئے عمل کرے اللہ تعالیٰ حکمت کے چشمے اس کے دل سے اس کی زبان پرجاری فرما دیتا ہے'' (الترغیب و الترھیب، ج اول، س ۵۶، مقدمۃ الکتاب)
تین بد نصیب :
سَیِّدُنَا امام ترمذی(رضی اﷲ تعالیٰ عنہ) اپنی کتاب ترمذی شریف میں ایک روایت سَیِّدُنَاابو ھریرہ (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) سے نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:'' قِیامت کے دن سب سے پہلے تین قسم کے لوگوں سے سوال ہوگا۔ ایک وہ جسے اللہ (عزوجل)نے دنیا میں علم عطا فرمایا ہوگااللہ تبارک و تعالیٰ اس سے دریافت فرمائے گا کہ تو نے اپنے علم کے سلسلے میں کیا کیا ۔ وہ