فَمَنۡ کَانَ یَرْجُوۡ لِقَآءَ رَبِّہٖ فَلْیَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَّ لَا یُشْرِکْ بِعِبَادَۃِ رَبِّہٖۤ اَحَدًا ﴿۱۱۰﴾٪
ترجمہ کنز الایمان: ''تو جسے اپنے رب سے ملنے کی امید ہو اسے چاہئے کہ نیک کام کرے اور اپنے رب کی بندگی میں کسی کو شریک نہ کرے'' ۔(پارہ۱۶ 'سورہ کہف' آیت۱۱۰)
یہ آیت مبارکہ ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی جو لوگوں کی دادو تحسین حاصل کرنے کیلئے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں۔
نبی اکرم ، شاہ بنی آدم، نور مجسم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
ثَلاَثٌ لاَ یَغِلُّ عَلَیْھِنَّ قَلْبُ رَجُلٍ مُسْلِمٍ اِخْلاَصُ الْعَمَلِ لِلّٰہِ وَالنَّصِیْحَۃُ لِلْوُلاَۃِ وَ لُزُوْمُ الْجَمَاعَۃِ۔
ترجمہ : ''یعنی تین کام ایسے ہیں جن کے بارے مرد مومن کا دل خیانت نہیں کرتا خالص اللہ تعالیٰ کےلئے عمل کرنا، حکمرانوں کی خیر خواہی اور جماعت سے وابستگی'' (مسند امام احمد بن حنبل ، ج ۴، ص ۸۰، مرویات جبیر بن مطعم)
اﷲ (عزوجل) کی مدد۔۔۔۔۔۔ :
حضرت سَیِّدُنَا مصعب بن سعد(رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ)اپنے والد حضرت سیدنا سعد(رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ)سے روایت کرتے ہیں ،فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میرے والد صاحب کو خیال آیا کہ انہیں حضوراکرم صلی اللہ تعالی علیہ وسلمکے بعض صحابہ (علیہم الرضوان)پر فضیلت حاصل ہے جو اُن سے درجے میں کم ہیں تو نبیِ آخر الزماں صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :