اسی طرح جو شخص شطرنج کا ماہر ہو وہ کبھی رخ اور گھوڑا مفت میں چھوڑا دیتا ہے تاکہ مدّ مقابل کی چال سے بچ سکے جبکہ شطرنج سے ناواقف شخص اس پر اظہار تعجب کرتا ہے یوں ہی جو شخص لڑائی کے فن سے واقف ہو وہ بعض اوقات اپنے دشمن سے پیٹھ پھیر کے بھاگ کھڑا ہوتا ہے (اور اسے ایسی جگہ لے آتا ہے جہاں پلٹ کر حملہ کرنا آسان ہوتا ہے لیکن اسے میدان جنگ سے فرار ہوتا دیکھ کر غیر متعلقہ شخص حیرت میں پڑ جاتا ہے)۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اللہ (عزوجل) کی طرف جانے کا طریقہ بھی کچھ اسی طرح ہے کیونکہ یہ شیطان سے لڑائی ہے اور دل کا علاج ہے چنانچہ جو شخص صاحب بصیرت ہو اور اسے توفیق الٰہی (عزوجل) حاصل ہو تو وہ نہایت نفیس حیلے تلاش کر لیتا ہے جنہیں کمزور اور کچّے ذہن والے لوگ عقل سے بعید خیال کرتے ہیں چنانچہ مرید کیلئے مناسب نہیں کہ شیخ کی بعض باتوں پر دل میں پیدا ہونے والے امکان کو چھپائے رکھے اسی طرح طالب علم کو اپنے استاد پر اعتراض نہیں کرنا چاہئے بلکہ صبر سے کام لینا چاہئے اور جہاں تک بصیرت کام کرے فبہا اور ان کی جو بات سمجھ میں نہ آئے اسے چھوڑ دے یہاں تک کہ وہ خود اس مقام کو حاصل کر لے جہاں ان باتوں کے اثرات اس پر خود بخود منکشف ہو جائیں۔
(ہم اللہ (عزوجل) سے اچھی توفیق طلب کرتے ہیں اور) وہی توفیق عطا فرمانے والا ہے۔