(رحمۃ اللہ علیہ) کے ساتھ کیا معاملہ فرمایا ،انہوں نے جواب دیا، اللہ (عزوجل) نے مجھ سے میرے کسی دعوے پر دلیل طلب نہیں کی البتہ ایک بات کی دلیل طلب فرمائی وہ یہ کہ ایک دن میں نے عرض کی کہ جنت کے نقصان سے بڑھ کر کونسا نقصان ہے ؟، تو اس پر رب لم یزل (عزوجل) نے ارشاد فرمایا ، کہ میرے دیدار کے نقصان سے بڑھ کر کونسا نقصان ہے؟(یعنی جسے میرا دیدار نصیب نہ ہو اس سے بڑھ کر محروم کون ہوگا)۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ان تمام واقعات سے پتہ چلتا ہے کہ نِیّتوں کے درجات مختلف ہوتے ہیں اور جس شخص کے دل پر ان میں سے کوئی ایک غالب آجائے تو بسا اوقات اسکے لئے اس سے توجہ سے ہٹانا مشکل ہوجاتا ہے اور ان حقائق کی معرفت سے ایسے افعال پیدا ہوتے ہیں جن کا انکار فقہائے ظاہر بھی نہیں کرتے ۔
چنانچہ پتہ چلا کہ جس شخص کے لئے کسی مباح کام کی نِیّت کرنا آسان ہو اور نفل کی نِیّت کرنا مشکل ہو تو مباح کام زیادہ بہتر ہے اور اب فضیلت مباح کام کی طرف منتقل ہو جائے گی اور نِیّت نہ ہونے کی صور ت میں نفل اسکے لئے باعث نقصان ہوگا کیونکہ اعمال کا دارومدار نِیّتوں پر ہے ۔ اسکا معاملہ معاف کرنے کی طرح ہے کیونکہ معاف کرنا انتقام لینے سے افضل ہے لیکن بعض اوقات معاف کرنے کی نِیّت نہیں ہوتی اور انتقام لینے کی نِیّت ہوتی ہے تو اب یہی افضل ہے۔
اسی طرح اگر کوئی شخص کھانے پینے اور سونے میں اپنے نفس کو آرام پہنچانے اور اسے عبادت کیلئے تقویت دینے کی نِیّت کرتا ہے اور اسوقت روزے اور نماز کی طرف رغبت نہیں ہوتی تو اسکے لئے کھانا اور سونا ہی افضل ہے بلکہ اگر مسلسل عبادت کرنے سے طبیعت میں ملال پیدا ہو جائے، رغبت کم ہو جائے اور بخوشی عبادت نہ کرسکتا ہواور وہ یہ خیال کرتا ہو کہ اگر کچھ دیر کھیل کود یا گفتگو کروں گا تو طبیعت بحال ہو جائے گی تو اسکے لئے کوئی جائز کھیل کھیلنا نماز سے افضل ہے ۔
چنانچہ حضرت سَیِّدُنَا ابو درداء (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) فرماتے ہیں'' میں اپنے نفس کو کچھ کھیل کر راحت پہنچاتا ہوں تو یہ کھیلنا میرے حق میں (عبادت کرنے کیلئے)مددگار ثابت ہوتا ہے''۔
اورحضرت سَیِّدُنَا مولیٰ علی (کرّم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم) فرماتے ہیں '' اپنے دلوں کو کچھ آرام دیا کرو کہ اگر ان پربے جا سختی کی جائے تو وہ اندھے ہو جائیں گے ''۔
اور یہ وہ حقائق ہیں کہ جن کا صحیح علم جیّد علماء ہی کو ہو سکتا ہے ۔محض ناکارہ قسم کو لوگوں کو نہیں جیسا کہ کوئی طبیبِ حاذق گرمی کے شکار مریض کا علاج گوشت سے کرتا ہے حالانکہ گوشت بھی گرم ہوتا ہے تو ایسا شخص جو علم طب سے بے بہرہ ہو اسے بڑا عجیب و غریب خیال کرتا ہے حالانکہ طبیبِ حاذق جانتا ہے کہ گوشت کھانے سے مریض کی طیبعت بحال ہو جائے گی اور وہ علاج بضد کو برداشت کرنے کے لائق ہو جائے گا۔