حدیث بیان کرنا شروع کر دیتے۔دریافت کرنے پر ارشاد فرمایا، کیا تم چاہتے ہو کہ میں نِیّت کے بغیر حدیث پاک بیان کروں؟ جب میری نِیّت ہوگی تب بیان کروں گا۔
منقول ہے کہ حضرت سَیِّدُنَا داو،د بن محبّر(رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ) نے جب حدیثوں کی کتاب ''کتاب العقل'' تالیف کی تو سَیِّدُنَا امام احمد بن حنبل (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) ان کے پاس تشریف لائے اور کتاب طلب فرمائی پھر ایک صفحہ دیکھنے کے بعد واپس کردی، انھوں نے پوچھا ''حضرت کیا ہوا؟ '' ۔ فرمایا'' اس میں درج کی گئی احادیث سندوں کے اعتبار سے ضعیف ہیں''۔ یہ سن کر سَیِّدُنَا داؤد بن محبّر(رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) نے فرمایا'' میں نے اس کتاب کو اسناد کی قوت و ضعف کے اعتبار سے نہیں لکھا کہ اسکا امتحانی جائزہ لیا جائے بلکہ میں نے اسے عمل کی نِیّت سے لکھا اور فائدہ اٹھایاہے''۔یہ سن کر حضرت سَیِّدُنَا امام احمد بن حنبل(رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) نے کتاب دوبارہ طلب کی اور فرمایا '' یہ کتاب مجھے دیں تاکہ میں اسے اس نظر سے دیکھوں جس نظر سے آپ(رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) نے تالیف کی ہے''۔ پھر کتاب لے کر کچھ دیر تک ملاحظہ فرماتے رہے پھر واپس کرتے ہوئے ارشاد فرمایا'' اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے میں نے اس سے نفع اٹھالیا''۔
ایک مرتبہ کسی نے سَیِّدُنَا طاؤس (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) سے دعا کی درخواست کی تو فرمایا ''جب نِیّت ہو گی تو دعا کروں گا''۔ اور ایک بزرگ (رحمۃ اللہ علیہ) کا فرمان ہے کہ میں ایک مہینے سے ایک بیمار کی عیادت کیلئے نِیّت تلاش کر رہا ہوں لیکن مجھے نہیں مل رہی ہے۔
ایک او ربزرگ حضرت سَیِّدُنَا عیسیٰ بن کثیر (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) فرماتے ہیں '' ایک مرتبہ میں حضرت سَیِّدُنَا میمون بن مہران (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) کے ساتھ گیا یہاں تک کہ وہ اپنے گھر کے دروازے تک پہنچ گئے اسکے بعد میں واپس لوٹ آیا تو انکے بیٹے نے ان سے کہا ،ابا جان آپ انہیں رات کے کھانے کی دعوت کیوں نہیں دیتے ۔فرمانے لگے ،اس وقت میری نِیّت میں نہیں ہے''۔
میرے میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! پتہ یہ چلا کہ سب کچھ اس وجہ سے ہے کہ نِیّت نظر کے تابع ہوتی ہے ۔چنانچہ جب نظر بدلتی ہے تو نِیّت بھی بدل جاتی ہے اور ہمارے بزرگانِ دین (رحمہم اللہ تعالیٰ) نِیّت کے بغیر عمل کرنے کو درست نہیں سمجھتے تھے اسلئے کہ وہ جانتے تھے کہ نِیّت عمل کی روح ہے اور سچی نِیّت کے بغیر عمل ریا کاری اور تکلیف میں پڑنا ہے اور یہ رب (عزوجل) کے قرب کا باعث نہیں بلکہ غضب کو ابھارنے والا کام ہے ۔ نیز وہ لوگ اس بات کو بھی اچھی طرح سمجھتے تھے کہ نِیّت اس بات کا نام نہیں کہ کوئی شخص اپنی زبان سے کہے ''میں نے نِیّت کی'' بلکہ وہ تو دل کے حقیقی ابھار کا نام ہے اور دل کا یہ میلان اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کی ہوئی توفیق کا دوسرا نام ہے ۔کبھی یہ آسان ہوتا ہے اور کبھی مشکل ۔
البتہ جس شخص کے دل پر دین کا معاملہ غالب ہواس کے لئے اکثر اوقات نیک امور کیلئے نِیّت کو حاضر کرنا آسان