لئے حرکت میں آئیں لہٰذا جب زبان کو حرکت دینے والی قدرت اس باعث عقد کی اطاعت کرتے ہوئے قبول عقد کیلئے تیار ہو تب جاکر وہ شخص نِیّت کرنے والا شمار ہوگا۔
اور اگر یہ صورت نہ ہو تو لاکھ کوئی اولاد کے قصد کے سلسلے میں باتیں بنائے اور اسے دل میں بار بار دہرائے اسکی حیثیت وسوسہ اور ہذیان (یعنی بخارکی تیزی کی وجہ سے کی گئی بے معنی گفتگو)سے زیادہ نہیں۔(گویا کسی کام کے بارے میں نیت حاصل کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ اسکی اہمیت دل میں راسخ کی جائے تاکہ دل بذات خود اس شئے کو حاصل کرنے کی خواہش کرے ۔ مثلاً سنت پر عمل کرنے کی نیت حاصل کرنے کے لئے پہلے دل میں سنت کی اہمیت راسخ کرنا ضروری ہے، تاکہ دل ہر کام کے بارے میں سنت کو پیش نظررکھے)۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! یہی وجہ ہے کہ بعض بزرگان دین (رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین) نِیّت نہ ہونے کے وقت بعض عبادتیں نہیں کیا کرتے تھے ۔
چنانچہ منقول ہے کہ امام المعبّرین (یعنی خواب کی درست تعبیریں بتانے والوں کے امام)حضرت سَیِّدُنَا ابن سیرین(رحمہ اللہ تعالیٰ)نے حضرت سَیِّدُنَا حسن بصری (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ)کی نماز جنازہ نہیں پڑھی ۔دریافت کرنے پر ارشاد فرمایا ''اس وقت میری نِیّت حاضر نہ تھی'' ۔
بعض بزرگان دین (رحمہم اللہ تعالیٰ )میں سے ایک بزرگ (رحمۃ اللہ علیہ) اپنے بالوں میں کنگھی کرنا چاہتے تھے چنانچہ اپنی اہلیہ کو آواز دی اور فرمایا ، کنگھی لے آؤ۔ انہوں نے پوچھا عالی جاہ شیشہ بھی لاؤں؟اس پر وہ بزرگ (رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ) کچھ دیر خاموش رہے پھر فرمایا،ہاں۔ اس تاخیر کے بارے میں پوچھا گیا تو جواب دیا، کہ کنگھی کے لئے تو میری نِیّت موجود تھی لیکن شیشے کے بارے میں اس وقت کوئی دینی نِیّت موجودنہیں تھی چنانچہ میں شیشہ منگوانے سے باز رہا پھر جب اللہ (عزوجل )نے شیشے کیلئے میری نِیّت کو حاضر فرمادیا تو میں نے منگوالیا۔
اسی طرح حضرت سَیِّدُنَا حمّاد بن سلیمان(رحمہما اللہ تعالیٰ) جو کوفے کے علماء میں سے ایک تھے جب انکا انتقال ہو ا تو حضرت سَیِّدُنَا سفیان ثوری(رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) جنازے میں تشریف نہ لائے۔ کسی نے پوچھا تو ارشاد فرمایا، اگر میری نِیّت ہوتی تو میں ضرور ایسا کرتا۔ اسی طرح ان اکابر(رضی اﷲ تعالیٰ عنہم) سے کسی نیک کام کے کرنے کے متعلق پوچھا جاتا تو فرماتے ، کہ اگر اللہ تعالیٰ نے اسکی نِیّت عطا فرمائی تو کروں گا۔
اسی طرح اپنے وقت کے بہت بڑے محدّث حضرت سَیِّدُنَا طاؤس (رحمہ اللہ تعالیٰ) نِیّت کے بغیر حدیث پاک بیان نہ کرتے ۔ خواہ آپ (رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ)سے اسکا مطالبہ بھی کیا جاتا اور( جب نِیّت حاضر ہوتی تو )بغیر کسی کے پوچھے