مائل ہوتا ہوں یاکوئی بے فکر شخص یوں کہے کہ میں نِیّت کرتا ہوں فلاں آدمی سے عشق و محبت کروں اور دل سے اسے عظیم سمجھوں تو یہ بات محال ہے کیونکہ دل کا کسی بات کی طرف مائل او رمتوجہ ہونا اسوقت تک نہیں ہو سکتا جب تک اسکے مائل ہونے کے اسباب پیدا نہ ہو جائیں اور بعض اوقات انسان فوری طور پر ان اسباب کو حاصل کرنے پہ قادر ہو تا ہے اور بعض اوقات نہیں جبکہ نفس کسی فعل کی طرف اسی وقت توجہ کرتا ہے جب وہ فعل نفس کی غرض کے مطابق ہو اور جب تک آدمی کسی فعل کے متعلق یہ یقین نہ کرلے کہ یہ فعل اسکی غرض کے ساتھ وابستہ ہے اس وقت تک اُس آدمی کا ارادہ اس فعل کے حصول کی طرف توجہ نہیں کرتا اور یہ بات ایسی ہے جس کے اعتقاد پر وہ ہر وقت قادر نہیں ہوتا اور جب اسکا اعتقا د ہو تو دل اسطرف متوجہ ہو جاتا ہے بشرطیکہ دل فارغ ہو اور کسی دوسری زیادہ مضبوط غرض میں مصروف نہ ہو اور ظاہر ہے کہ یہ بات ہمیشہ اور ہر وقت نہیں ہوتی۔
ایک دوسری وجہ یہ کہ رغبت دینے والی اور توجہ ہٹانے والی چیزوں کیلئے بہت سے اسباب ہوتے جن کا سبب وہ امور جمع ہوتے ہیں اور امور کا یہ اجتماع ہر شخص کے احوال اور اعمال کے لحاظ سے مختلف اسے یوں سمجھئے کہ جب نکاح کی خواہش غالب ہو لیکن اولاد کے سلسلے میں کوئی دینی یا دنیوی صحیح غرض نہ ہو تو اب آدمی اولاد کی نِیّت سے اپنی زوجہ سے قربت نہیں کر سکے گا بلکہ صرف اور صرف قضاء شہوت ہی مقصود و مراد ہوگا کیونکہ نِیّت کا دارومدار غرض پر ہے اور اس شخص کی غرض محض شہوت رانی ہے۔
چنانچہ وہ اولاد کی نیت کس طرح کر سکے گا اور جب اسکے دل میں نکاح کا محض ادائے سنت کی خاطر کرنے کا جذبہ غالب نہ ہو تو اب اس نکاح سے سنت کی ادائیگی کی نِیّت کرنا بھلا کیسے ممکن ہوگا حالانکہ سنت کی نِیّت سے نکاح کرنا بہت فضیلت کا حامل ہے اب اس صورت میں اگر وہ محض زبان سے کہے یا دل میں سوچے کہ میں اتباع سنت کی نِیّت کرتا ہوں تو یہ محض حدیث نفس ہے نِیّت نہیں کیونکہ یہاں نفس کا مقصود سنت کی پیروی نہیں بلکہ قضاء شہوت ہے۔