Brailvi Books

فیضانِ اِحیاءُ العُلوم
35 - 325
دوران آپ (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) کھانا تناول فرما رہے تھے تو آپ(رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) نے ان سے کوئی گفتگو نہ کی حتی کہ جب کھانے کے بعد انگلیاں چاٹ لیں تو فرمایا کہ اگر میں یہ کھانا بطور قرض نہ لیا ہوتا تو میں تمہیں بھی اپنے ساتھ کھلاتا ۔

ایک دوسرے مقام پر آپ(علیہ الرحمۃ) کا فرمان ملتا ہے کہ جو شخص کسی کو کھانے کی دعوت دیتا ہے لیکن دل میں اسے کھلانے کی نِیّت نہیں اب اگر وہ شخص دعوت قبول کر لے تو اس دعوت دینے والے پر دو گناہ ہیں اگر وہ نہ کھائے تو اس پر ایک گناہ ہے۔ ایک گناہ تو منافقت ہے اور دوسرا اپنے مسلمان بھائی کے ساتھ ایسا برتاؤ کرنا ہے کہ اگر وہ حقیقت جان لے تو اسے برا لگے ۔ہمیں اسی طرح تمام اعمال میں نِیّت کا خیال رکھنا چاہئے کام کوئی سا بھی ہو اس میں نِیّت ضروری ہے اور اگر فی الوقت نِیّت حاضر نہیں تو کام نہ کریں کیونکہ نِیّت بندے کے اختیار میں نہیں ہوتی۔ پھر جب نِیّت حاضر ہو تو اس کام کو انجام دیں۔
فصل نمبر۱ 

نِیّت اختیاری شئے نہیں ہے:
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! جب ایک جاہل آدمی ان تمام باتوں کو سنتا ہے جو ہمیں نِیّت کے اچھے ہونے کے سلسلے میں بطور نصیحت بتائی گئی ہیں نیز یہ بھی بتایا گیا ہے کہ نِیّتیں زیادہ ہونی چاہئیں اور اس کے ساتھ جب وہ سرکارِ ذی وقار صلی اﷲ تعالیٰ علیہ والہ وسلم  کے اس ارشاد پاک کو سنتا ہے کہ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ والہ وسلم  نے ارشاد فرمایا :
اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّیَاتِ
ترجمہ : ''کہ اعمال (کے ثواب)کا دارومدار نِیّتوں پر ہے'' (صحیح بخاری،ج اول، ص۲، کتاب بد ء الوحی)

تو اپنے دل میں سوچتا ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کی رضامندی کیلئے پڑھانے، تجارت کرنے یا کھانے کی نِیّت کرتا ہوں اور اس سوچ کو نِیّت سمجھتا ہے حالانکہ محض دل میں سوچ لینے سے نِیّت نہیں ہوتی بلکہ یہ یا تو زبانی کلام ہے یا خیالات کا انتقال ہے یا حدیث نفس ہے یا محض ایک سوچ ہے اور ان سب کا نیت سے کوئی تعلق نہیں۔ کیونکہ نِیّت تو اس بات کا نام ہے کہ نفس بذات خود اس کام کی طرف مائل اور متوجہ ہوجس میں اسے اپنی غرض نظر آئے خواہ وہ غرض فوری نوعیت کی ہو یا اسکا تعلق مستقبل سے ہو بہرحال اگر نفس کا میلان اس شئے کی طرف نہ ہو تو محض ارادے سے فعل کرنا ممکن نہیں۔ 

اسے یوں سمجھئے کہ ایک ایسا شخص جسکا پیٹ بھرا ہوا ہو وہ یوں کہے کہ میں کھانے کی نِیّت کرتا ہوں۔اوراسکی طرف
Flag Counter