ہے ؟ اسکا دنیامیں کیا فائدہ ہوگا اور آخرت میں کیا نقصان ہوگا؟ہم دنیا کو آخرت پر کیوں ترجیح دیتے ہیں؟۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! جب ہمیں یہ معلوم ہو جائے کہ ہم یہ کام محض دینی وجہ سے کر نا چاہتے ہیں تو وہ کام کرگزرنا چاہئے ورنہ رک جانا چاہئے پھر اس رکنے میں بھی دل کی نگرانی ضروری ہے کیونکہ کسی کام کو ترک کرنا بھی ایک کام ہے اور اسکے لئے بھی نِیّت کا صحیح ہونا ضروری ہے لہٰذاخوب غور کرنا چاہئے کہ کہیں اس ترک فعل کی وجہ مخفی خواہش تو نہیں جو ہماری نگاہوں سے اوجھل ہو اور ہمیں ہر گز ہرگز ظاہری امور اور نیکیوں کی شہرت سے دھوکہ نہیں کھانا چاہئے اور خوب گہرائی میں جاکر غور کر لینا چاہئے تاکہ دھوکے سے محفوظ رہ سکیں۔
اتنی احتیاط۔۔۔۔۔۔! :
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!منقول ہے کہ حضرت سَیِّدُنَا زکریا(علیہ السلام)اجرت پر گارے کی دیوار بناتے تھے اور اسکے بدلے میں آپ(علیہ السلام)کو ایک روٹی دی جاتی تھی کیونکہ آپ(علیہ السلام)اپنے دست اقدس سے کما کر کھانے کو پسند فرماتے تھے۔ ایک مرتبہ کچھ لوگ آپ(علیہ السلام)کی بارگاہ مقدسہ میں حاضرہوئے اور آپ(علیہ السلام)اس وقت کھانے میں مصروف تھے لیکن آپ(علیہ السلام)نے انہیں کھانے کی دعوت نہ دی تو ان لوگوں کوتعجب ہواکیونکہ آپ(علیہ السلام) کی سخاوت و زہد بہت مشہور تھا' ان لوگوں کا خیال تھا آپ(علیہ السلام)ہمیں ضرور کھانے کی دعوت دیں گے لیکن جب آپ(علیہ السلام)نے دعوت نہ دی تو انہیں تعجب ہوا ۔ا ستفسار پر آپ(علیہ السلام) نے جو ارشاد فرمایاوہ ہمارے لئے عبرت کا مدنی پھول ہے فرمانے لگے'' میں ایک قوم کے ہاں اجرت پہ کام کرتا ہوں اور وہ مجھے ایک روٹی دیتے ہیں تاکہ مجھے اس کام کے کرنے میں طاقت مہیا ہو سکے اگر میں تمہیں اپنے حصے کی روٹی میں سے کچھ کھلاتا ہوں تو یقینا نہ تمہیں کفایت کرتی اور نہ مجھے قوت حاصل ہوتی البتہ اس وجہ سے میرے عمل میں کمزور ی آجاتی اور میں اپنے کام کو صحیح طریقے سے ادا نہ کرپاتا۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دیکھا آپ نے کہ سَیِّدُنَا زکریا(علیہ السلام)نے ہمیں کس قدر باریک بینی کا درس دیا ہے کیونکہ اگر آپ(علیہ السلام)اپنے حصے کی روٹی دوسروں کو کھلاتے تو یقینا یہ سخاوت ہوتی جو کہ نفلی شئے ہے لیکن اس سے آپکے عمل میں کمزوری واقع ہو جاتی جو آپ(علیہ السلام) کیلئے فرض کا درجہ رکھتا تھا۔ کیونکہ اسی عمل کی آپ(علیہ السلام)کو اجرت دی جاتی تھی۔ اور اجرت پوری لے کر عمل پورا نہ کرنا بہت بری بات ہے۔ اور اللہ (عزوجل) کے نبی(علیہ السلام) بھلا یہ کام کس طرح کر سکتے تھے۔
اوریہ باتیں صاحبِ بصیرت (جو نور الٰہی سے باطن میں دیکھتا ہے )سے پوشیدہ نہیں رہتیں۔ اسی طرح کا ایک واقعہ حضرت سَیِّدُنَا سفیان ثوری(رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) کے بارے میں بھی ملتا ہے کہ آپ(رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) کے پاس ایک بزرگ حاضر ہوئے اور اس