بیٹھ جاؤ اور ایسی جگہ بیٹھو جو تواضع کے زیادہ قریب ہو بیٹھتے وقت اپنے پاس والوں کو سلام کہو۔
مد ینہ :
راستے میں مت بیٹھو اگر بیٹھنا پڑے تو اس کے آداب یہ ہیں کہ نگاہ کو پست رکھو' مظلوم کی مدد کرو' فریادی کی فریاد رسی کرو' کمزور کی مدد کرو' بھٹکے ہوئے کو راستہ دکھاؤ' مانگنے والے کو عطا کرو' نیکی کا حکم دو اور برائی سے روکو، البتہ فی زمانہ ان سب باتوں کے لئے اضافی سمجھداری کی ضرورت ہے ' تھوکنے کے لئے مناسب جگہ تلاش کرو' قبلہ رخ نہ تھوکو دائیں طرف بھی نہ تھوکو بلکہ بائیں طرف یا پاؤں کے نیچے تھوکو۔
مد ینہ :
حکمرانوں کی مجلس اختیار نہ کرو اگر ایسا کرنا ہو تو اس کے آداب یہ ہیں غیبت نہ کرنا' جھوٹ سے بچنا' راز داری اختیار کرنا' حاجات کم رکھنا' اچھے الفاظ استعمال کرنا اور شستہ گفتگو کرنا شاہی طریقے پر گفتگو کرنا' ہنسی مذاق سے پرہیز کرنا ہے اگرچہ وہ تمہارے لئے محبت کا اظہار کريں۔
ان کے سامنے ڈکار نہ لو اور کھانے کے بعد ان کے سامنے خلال نہ کرو حکمران کو بھی چاہئے کہ وہ راز افشاء کرنے' بادشاہی میں خلل ڈالنے اور عزت کے درپے ہونے کے علاوہ دیگر باتوں کو برداشت کرے۔
مد ینہ :
جاہل لوگوں کے ساتھ بھی نہ بیٹھو اگر ایسا کرنا پڑ جائے تو اس کے آداب یہ ہیں' ان کی باتوں میں غور وفکر نہ کرو ان کی بیہودہ باتوں کی طرف کم توجہ دو اور ان سے جو برے الفاظ صادر ہوتے ہیں ان پر بھی توجہ نہ دواگر ان کی حاجت بھی ہو تب بھی ان سے زیادہ ملاقات نہ کرو' کسی سے مزاح نہ کرو وہ عقل مند ہو یا غیر عاقل کیونکہ عقل مند آدمی اپنی بے عزتی ہونے پر تم سے کینہ رکھے گا اور بیوقوف تمہیں ہلکا سمجھ کر تمہارا مذا ق اڑائے گاکیونکہ مذاق انسان کے رعب کو ختم کردیتا ہے اس سے عزت جاتی رہتی ہے' کینہ پیدا ہوتا ہے تومحبت کی چاشنی ختم ہوجاتی ہے اور عالم کے علم کو دھبہ لگتا ہے بیوقوف جرأ ت کا مظاہرہ کرتا ہے اور دانا کے سامنے مرتبہ کم ہوجاتا ہے متقی لوگ اسے برا سمجھتے ہیں اور اس سے دل مرجاتا ہے اﷲ (عزوجل) سے دوری ہوتی ہے' غفلت پیدا ہوتی ہے اور آدمی ذلت کا شکار ہوجاتا ہے اس سے باطن اندھا اور دل مرجاتا ہے عیب زیادہ ہوتے ہیں اور گناہ ظاہر ہوتے ہیں۔