خاموش رہو۔ اور یہ بھی بیان نہ کرو کہ مجھے اپنا لڑکا یا لڑکی یا شعر یا تصانیف یا وہ باتیں جو خاص تم سے متعلق ہیں' اچھی لگتی ہیں عورتوں کی طرح بناؤ سنگھار نہ کرو اور نہ غلاموں کی طرح میلے کچیلے رہو' زیادہ سرمہ لگانے سے بچو اسی طرح تیل بھی مقدار سنت سے زیادہ نہ لگاؤ اپنی حاجتیں ہر کسی سے مت کہتے پھرو کسی ظالم کو بہادر نہ کہو اپنے گھر والوں اور بچوں کو اپنے مال کی مقدار نہ بتاؤ دوسروں کا تو ذکر ہی کیا کیونکہ وہ جب تھوڑا دیکھیں گے تو تم ان کی نظروں میں خوار ہوگئے اور اگر زیادہ ہوگا تو کبھی بھی ان کو خوش نہیں رکھ سکو گے ان کی تربیت ایسے طریقے سے جونفرت نہ ہو اور نرمی اختیار کرو لیکن کمزوری نہ دکھاؤ اپنے نوکر چاکر اور ماتحتوں سے مذاق مسخری نہ کرو ورنہ تمہارا وقار ختم ہوجائے گا۔
مد ینہ :
جب کسی سے مقدمہ بازی ہو تو وقار اختیار کرو جہالت کے طریقے سے بچو' جلدی نہ کرو بلکہ اپنی دلیل پر پہلے ہی خوب غور کرلو اپنے ہاتھوں سے زیادہ اشارے نہ کرو اور اپنے پیچھے کی طرف مڑکر نہ دیکھو عاجزی کی کوئی صورت اختیار نہ کرو اور جب غصہ تھم جائے تو گفتگو کرو۔
مد ینہ :
اگر تمہاراحکمران تمہیں اپنے قریب کرے تو اس کے ساتھ انتہائی احتیاط کے ساتھ رہو اگر وہ تم سے خوش مزاجی کے ساتھ پیش آئے تو اس کے بدلنے سے بے خوف نہ ہو' اس کے ساتھ نرمی اس طرح برتو جس طرح بچوں کے ساتھ اختیار کرتے ہیں اور اس کی خواہش کے مطابق بات کرو جب تک اس میں گناہ نہ ہو اس کے نرم سلوک کی وجہ سے اس کے ذاتی معاملات میں دخل نہ دو اگرچہ اس کے نزدیک تم اس بات کا حق رکھتے ہو۔ کیونکہ جو شخص حکمران اور اس کے گھر والوں کے مابین معاملات میں دخل اندازی کرتا ہے وہ ایسا گرتا ہے کہ پھر اٹھ نہیں سکتا۔
مد ینہ :
جو دوست صرف خوشحالی کے زمانے کا دوست ہو اس سے بچو کیوں کہ وہ سب سے بڑا دشمن ہے اور اپنے مال کو اپنی عزت سے زیادہ عزیز نہ سمجھویہاں وہ اسلامی بھائی درس حاصل کریں جو معمولی رقموں پر مثلا بس و موٹرکے کرائے کی زیادتی پر آگ بگولہ ہو جاتے ہیں اور نوبت ہاتھا پائی اور گالی گلوچ تک پہنچ جاتی ہے ۔
مد ینہ :
جب کسی مجلس میں داخل ہو تو ادب کا تقاضا ہے کہ پہلے وہاں سلام کرو' دوسروں کی گردنیں نہ پھلانگو بلکہ جہاں جگہ ملے