Brailvi Books

فیضانِ اِحیاءُ العُلوم
322 - 325
ہے جیسے ان کے آنے پر کھڑا ہونا۔ عذر پیش کرنا اور تعریف کرنا یہ سب باتیں محبت کے حقوق ہیں اور ان کے پورا کرنے میں کچھ نہ کچھ اجنبیت اور تکلف ہوتا ہے لیکن جب ذہن ایک جیسے ہو ں تو تکلف ختم ہو جاتاہے اور وہ اس وقت اپنے دوست سے وہی برتاؤ کرتا ہے جو خود اپنے نفس کے ساتھ کرتا ہے کیونکہ یہ ظاہری آداب' باطنی آداب اور قلبی صفائی کے عنوانات ہیں اور جب دل صاف ہوجاتا ہے تو وہ دل کی بات کو ظاہر کرنے سے بے نیاز ہوجاتا ہے ۔

اور جس آدمی کی نظر مخلوق کی محبت پر ہوتی ہے وہ کبھی ٹیڑھا ہوتا ہے اور کبھی سیدھا۔ اور جس کی نظر خالق(عزوجل)پرہوتی ہے اس کا دل اﷲ (عزوجل) اور اس کی مخلوق کی محبت سے مزین ہوتا ہے کیونکہ بندہ اچھے اخلاق کی وجہ سے رات بھر عبادت کرنے والے اور دن کو روزہ رکھنے والے کا ثواب بلکہ اس سے بھی زیادہ حاصل کرتا ہے۔
خا تمہ:
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!سیدنا امام غزالی علیہ رحمۃ الباری اس باب کے آخر میں گفتگو سمیٹتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں کہ :

مد ینہ :

ہم اس مقدمہ میں مختلف قسم کے لوگوں کے ساتھ رہنے اور ہمنشینی کے آداب ذکر کریں گے جو بعض دانا لوگوں کے کلام سے منتخب کئے گئے ہیں۔

اگر تم اچھی طرح زندگی گزار نا چاہتے ہو تو اپنے دوست اور دشمن سے خوشی خوشی ملاقات کرو انہیں ذلیل نہ کرو اور نہ خود مرعوب ہوبلکہ وقار اختیار کرو لیکن ایسا جو تکبر کی حد تک نہ پہنچے اور عاجزی اختیار کرو لیکن ایسی جوذلت تک نہ پہنچے ۔اپنے تمام کاموں میں اعتدال اختیار کرو۔ اعتدال کی دونون طرفیں (افراط و تفریط) قابل مذمت ہیں لہذا اٹھنے بیٹھنے اور چلنے پھرنے میں بلاوجہ ادھر ادھر نہ دیکھو فضول لوگوں کی ٹولیوں کے پاس کھڑے نہ رہو اور جب بیٹھو تو حسب ضرورت اطمینان سے بیٹھو، انگلیوں میں انگلیاں نہ ڈالو داڑھی اور انگوٹھی کے ساتھ نہ کھیلو دانتوں میں خلال نہ کرو اور نہ ناک میں انگلی ڈالو لوگوں کے سامنے نہ تھو کو اور نہ ناک صاف کرو چہرے سے مکھیوں کو زیادہ نہ اڑاؤ لوگوں کے سامنے انگڑائی اور جمائی زیادہ نہ لو اسی طرح نماز میں بھی۔

مد ینہ : 

تمہاری مجلس باعث ہدایت اور تمہارا کلام مرتب و منظم ہونا چاہئے جو آدمی گفتگو کررہا ہو اس کے اچھے کلام کو کان لگا کر سنو۔ نہ اس پر بہت تعجب کا اظہار کرو اور نہ دوبارہ کہنے کا مطالبہ کرو' ہنسانے والی باتوں اور قصے کہانیاں بیان کرنے سے
Flag Counter