| فیضانِ اِحیاءُ العُلوم |
الترمذی ص ۵۹۵ باب ماجاء فی تواضع الرسول علیہ السلام) نیز صحابہ کرام (رضی اﷲ تعالیٰ عنہم)آپ اکے پاس بطور تبسم' ہنستے تھے وہ آپ اکی اقتداء کرتے ہوئے نیز آپ اکی عزت و احترام میں ایسا کرتے تھے۔ (جامع الترمذی ص ۵۲۴ ابواب المناقب)
سماعت :
اورجہاں تک سماعت کا تعلق ہے تو اس کی صورت یہ ہے کہ اس کا کلام نہایت توجہ سے سنو اوراس پر خوشی کا اظہار کرو نیز اس پر بلاوجہ اعتراض یا مداخلت نہ کرو اوراس کی گفتگو کو نہ کاٹو اوراگر تمہیں کوئی بات پیش آجائے ( اور اٹھنا پڑے) تو معذرت کرلو۔ نیز جو کچھ تمہارے دوست ناپسند کریں اس قسم کی باتیں سننے سے پرہیز کرو ۔
زبان :
اورجہاں تک زبان کا تعلق ہے تو اس کے حقوق ہم نے تفصیلاً ذکر کردیئے ہیں البتہ ایک بات اور یہ ہے کہ ان کے سامنے آواز بلند نہ کرے اور ان سے وہی گفتگو کرے جسے وہ سمجھ سکیں۔
ہاتھ :
ہاتھوں کے سلسلے میں یہ بات یاد رہے کہ جس چیز کا ہاتھوں سے لین دین ہوتا ہے اس میں اپنے دوستوں کی مدد کرنا نہ چھوڑے ۔
پاؤں :
ان کے لئے اپنے پاؤں کو اس طرح استعمال کرے کہ ان کے پیچھے تابع بن کر چلے ان کو اپناتابع نہ بنائے اور اسی قدر آگے ہو جس قدر وہ آگے کریں اور جس قدر وہ قریب کریں اسی قدر ان کے قریب ہو جب وہ آئیں تو کھڑا ہو اور اسی وقت بیٹھے جب وہ بیٹھیں نیز جب بیٹھے تو عاجزی کے ساتھ بیٹھے۔ میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!خلاصہ یہ ہے کہ جب ذہنی ہم آہنگی ہوجاتی ہے تو ان حقوق کو برداشت کرنا آسان ہوجاتا