باعثِ ثواب اور قابل اعتبار ہو لیکن اس میں کچھ شرائط ہیں وہ چاہتے ہیں کہ یہ بات مشہور نہ ہو اور نہ ہی آپ(رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ )کے اور ان کے درمیان ملاقات ہو کیونکہ وہ زیادہ ملاقات کو پسند نہیں کرتے۔
حضرت معروف (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) نے فرمایا'' اگر میں کسی سے ا ﷲل کی خاطر دوستی کرتا ہوں تواس سے جدا ہونا پسند نہیں کرتااور اسے ہر حال میں اپنے اوپر ترجیح دیتا ہوں پھر انہوں نے اخوت کی فضیلت اور اﷲ (عزوجل) کے لئے محبت کے سلسلے میں بہت سی احادیث ذکر کیں اور فرمایا رسول اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے حضرت علی المرتضیٰ (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) سے اخوت قائم کی تو انہیں علم میں اپنے ساتھ شریک کیا (المستدرک للحاکم جلد ۳ (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) ۱۲۶ کتاب معرفۃ الصحابۃ) اونٹوں (کی قربانی) میں آپ کو حصہ دار بنایا' (صحیح بخاری جلد اول ص ۳۰۸ کتاب الوکالہ) اور اپنی سب سے افضل اور پیاری بیٹی آپ کے نکاح میں دی' (صحیح بخاری جلد اول میں ۲۸۰ کتاب البیوع) اور اسی وجہ سے آپ (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ )کو بھائی چارے کے لئے خاص کیا۔
حضرت معروف (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ )نے مزید فرمایا'' چونکہ تم ان کا پیغام لے کر آئے ہو اور انہوں نے خواہش کی ہے اس لئے میں نے اﷲ (عزوجل) کے لئے ان سے عقد مواخات قائم کیا ٹھیک ہے اگر وہ پسند نہ کریں تو مجھ سے ملاقات نہ کریں لیکن میں جب چاہوں گا ان سے ملاقات کروں گا اور انہیں کہیں کہ وہ اپنی کوئی بات مجھ سے نہ چھپائیں اور اپنے تمام حالات مجھے بتائیں۔
ابن سالم نے جب حضرت سیدنا بشر (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) کو یہ بات بتائی تو وہ اس پر راضی ہوئے اور خوش بھی۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائيو !امام ٖغزالی (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) کے مطابق یہ صحبت کے جامع حقوق ہیں ہم نے ایک دفعہ انہیں اجمالی طور پر بیان کیا اور دوسری بار تفصیلی طریقے سے ذکر کیا اور یہ بات اسی صورت میں مکمل ہوسکتی ہے جب تم اپنے نفس پر اپنے بھائیوں کا حق سمجھو ان پر اپنا حق نہ جانو اور اپنے آپ کو ان کے خادم کی حیثیت میں جانو۔ اور اپنے تمام اعضاء ان کے حقوق میں قید کردو۔ مثلاً