Brailvi Books

فیضانِ اِحیاءُ العُلوم
320 - 325
باعثِ ثواب اور قابل اعتبار ہو لیکن اس میں کچھ شرائط ہیں وہ چاہتے ہیں کہ یہ بات مشہور نہ ہو اور نہ ہی آپ(رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ )کے اور ان کے درمیان ملاقات ہو کیونکہ وہ زیادہ ملاقات کو پسند نہیں کرتے۔

حضرت معروف (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) نے فرمایا'' اگر میں کسی سے ا ﷲل کی خاطر دوستی کرتا ہوں تواس سے جدا ہونا پسند نہیں کرتااور اسے ہر حال میں اپنے اوپر ترجیح دیتا ہوں پھر انہوں نے اخوت کی فضیلت اور اﷲ (عزوجل) کے لئے محبت کے سلسلے میں بہت سی احادیث ذکر کیں اور فرمایا رسول اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم  نے حضرت علی المرتضیٰ (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) سے اخوت قائم کی تو انہیں علم میں اپنے ساتھ شریک کیا (المستدرک للحاکم جلد ۳ (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) ۱۲۶ کتاب معرفۃ الصحابۃ) اونٹوں (کی قربانی) میں آپ کو حصہ دار بنایا' (صحیح بخاری جلد اول ص ۳۰۸ کتاب الوکالہ) اور اپنی سب سے افضل اور پیاری بیٹی آپ کے نکاح میں دی' (صحیح بخاری جلد اول میں ۲۸۰ کتاب البیوع) اور اسی وجہ سے آپ (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ )کو بھائی چارے کے لئے خاص کیا۔

حضرت معروف (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ )نے مزید فرمایا'' چونکہ تم ان کا پیغام لے کر آئے ہو اور انہوں نے خواہش کی ہے اس لئے میں نے اﷲ (عزوجل) کے لئے ان سے عقد مواخات قائم کیا ٹھیک ہے اگر وہ پسند نہ کریں تو مجھ سے ملاقات نہ کریں لیکن میں جب چاہوں گا ان سے ملاقات کروں گا اور انہیں کہیں کہ وہ اپنی کوئی بات مجھ سے نہ چھپائیں اور اپنے تمام حالات مجھے بتائیں۔

ابن سالم نے جب حضرت سیدنا بشر (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) کو یہ بات بتائی تو وہ اس پر راضی ہوئے اور خوش بھی۔

میٹھے میٹھے اسلامی بھائيو !امام ٖغزالی (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) کے مطابق یہ صحبت کے جامع حقوق ہیں ہم نے ایک دفعہ انہیں اجمالی طور پر بیان کیا اور دوسری بار تفصیلی طریقے سے ذکر کیا اور یہ بات اسی صورت میں مکمل ہوسکتی ہے جب تم اپنے نفس پر اپنے بھائیوں کا حق سمجھو ان پر اپنا حق نہ جانو اور اپنے آپ کو ان کے خادم کی حیثیت میں جانو۔ اور اپنے تمام اعضاء ان کے حقوق میں قید کردو۔ مثلاً
نگاہ :
جہاں تک نگاہ کا تعلق ہے تو انہیں محبت اور دوستی کی نظر سے دیکھو،ان کی خوبیوں کو دیکھو اور ان کے عیبوں سے اندھے بن جاؤ جب وہ تمہاری طرف متوجہ ہوں تو ان سے اپنی نگاہ کو نہ پھیرو اور نہ ان کی گفتگو سے نظریں چراؤ۔

ایک روایت میں ہے نبی اکرم  صلی اللہ تعالی علیہ وسلم  اپنی مجلس میں بیٹھنے والے ہر شخص کو اپنی توجہ سے حصہ عنایت فرماتے اور کسی ایک کی طرف زیادہ توجہ اسی صورت میں دیتے جب یہ خیال ہو تا کہ دوسروں کی نسبت زیادہ معزز ہے حتی کہ آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی گفتگو' لطیف انداز میں سوال اور توجہ تمام بیٹھنے والوں کی طرف ہوتی آپ  صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی مجلس' حیائ' تواضع اور امانت کی مجلس ہوتی تھی ' نیز نبی اکرم  صلی اللہ تعالی علیہ وسلم  صحابہ کرام کے سامنے سب سے زیادہ تبسم فرماتے اور ان کی گفتگو کو پسند فرماتے۔ (شمائل الترمذی مع جامع
Flag Counter