Brailvi Books

فیضانِ اِحیاءُ العُلوم
319 - 325
سمجھے جو اپنے لئے جائز سمجھتا ہے'' (الکامل لابن عدی جلد ۳ ص ۱۰۹۷ من اسمہ سلیمان)

یہ سب سے کم درجہ ہے یعنی دوست کو مساوات کی نظر سے دیکھنا جب کہ کمال یہ ہے کہ اپنے (مسلمان) بھائی کو افضل سمجھے۔ اسی لئے حضرت سیدنا سفیان ثوری (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) نے فرمایا جب تمہیں کہا جائے اے لوگوں میں سے برے انسان ! اور اس پر تمہیں غصہ آئے تو تم (واقعی) برے انسان ہو یعنی اپنے بدتر ہونے کا اعتقاد ہمیشہ تمہارے دل میں ہونا چاہئے۔ تواضع اختیار کرنے اور اپنے بھائی کو افضل سمجھنے کے بارے میں یہ اشعار کہے گئے ہیں۔ (ترجمہ)

ایسے شخص کے سامنے تواضع اختیار کرو جو اس تواضع کو تمہاری فضیلت کا باعث سمجھے تمہیں احمق نہ جانے۔

ایک دوسرے شاعر نے کہا:

کتنے ہی دوست ہیں جن سے شناسائی کسی دوسرے دوست کی وجہ سے ہوتی ہے لیکن وہ پہلے دوست کی نسبت زیادہ گہرے دوست بن جاتے ہیں اور وہ رفیق جسے میں نے راستے میں دیکھا میرے نزدیک وہی حقیقی دوست قرار پایا اور جب وہ اپنے آپ کو افضل سمجھے تو اس نے اپنے بھائی کو حقیر جانا اور یہ بات عام مسلمانوں میں قابلِ مذمت ہے۔

چنانچہ نبی اکرم  صلی اللہ تعالی علیہ وسلم  نے فرمایا :
بِحَسْبِ الْمُؤْمِنِ مِنَ الشَّرِّ اَنْ یَّحْقِرَ اَخَاَہُ الْمُسْلِمَ۔
''کسی مومن کی برائی کے لئے اتنی بات ہی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر جانے''

(صحیح مسلم جلد ۲ ص ۳۸۵ کتاب البروالصلۃ)

بے تکلفی کی تکمیل اس بات سے ہوتی ہے کہ وہ جس کام کا ارادہ کرے اس کے لئے اپنے دوستوں سے مشورہ کرے اور ان کے مشوروں کو قبول کرے۔ 

کیونکہ اﷲ (عزوجل) نے ارشاد فرمایا:
وَشَاوِرْہُمْ فِی الۡاَمْرِ ۚ
ترجمہ کنزالایمان''اور کاموں میں ان سے مشورہ لو'' 

(پارہ نمبر۴' سوره آل عمران آیت ۱۵۹)

اسی طرح ان سے اپنے راز بھی نہ چھپائے جیسا کہ مروی ہے حضرت معروف (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ )کے بھتیجے یعقوب نے کہا کہ اسود بن سالم(رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ ) میرے چچا معروف کے پاس آئے اور ان کے درمیان بھائی چارہ تھا انہوں نے کہا بشر بن حارث (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ )کا تمہارے ساتھ بھائی چارہ تھا انہوں نے کہا وہ آْپکے ساتھ بھائی چارے کو پسند کرتے ہیں لیکن سامنے آنے سے حیاء کرتے ہیں چنانچہ انہوں نے مجھے آپ (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ )کے پاس بھیجا ہے اورگزارش کرتے ہیں کہ آپ (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) ان سے دوستی قائم کریں جو
Flag Counter