اسلئے جب آدمی کا مال ضائع ہو جائے تب بھی اسے اچھی نِیّت کر لینی چاہئے اور یوں سوچنا چاہئے کہ میرا مال راہ خدا (عزوجل) میں ہے۔ اور جب سنے کہ کوئی شخص اس کی غیبت کرتا ہے تو دل میں خوش ہو کہ کوئی دوسرا اسکے گناہوں کا بوجھ اٹھا رہا ہے (کیونکہ غیبت کرنے والے کے سر پر اسکے گناہوں کا بوجھ بقدر غیبت ڈالا جاتا ہے جسکی اس نے غیبت کی)۔
اور خوش ہو کہ اسکی نیکیاں میرے نامہ اعمال میں آرہی ہیں البتہ ایک احتیاط یہ کرے کہ یہ نِیّت دل ہی میں کرے زبان کے ذریعے اسکا اظہار کرنا بہتر نہیں۔
حدیث پاک میں ہے '' بندے کا حساب ہوگا تو کسی آفت کے آجانے سے تمام اعمال بےکار ہو جائیں گے یہاں تک کہ وہ شخص جہنم کا مستحق ہو جائے گا پھر اسکے نیک اعمال کا دفتر کھولا جائے گا جس سے اسکے لئے جنت واجب ہو جائے گی وہ تعجب کریگا او رکہے گا کہ اے پَرْوَرْدْگَارْ یہ نیک اعمال تو میں نے کبھی نہیں کئے ، تو جواب دیا جائے گا کہ یہ اعمال ان لوگوں کے ہیں جنہوں نے تیری غیبت کی ، تجھے اذیت پہنچائی اور تجھ پر ظلم کیا ''
(الفردوس بماثور الخطاب،ج اول، ص ۱۹۷، حدیث ، ۷۴۴)
ایک دوسری روایت میں ہے کہ بندہ قیامت کے دن ایسے اعمال لے کر آئے گا جو پہاڑوں کے برابر ہونگے اور اگر ان نیک اعمال کا ثواب اسی کو ملے تو داخل جنت ہو جائے لیکن اسنے دنیا میں کسی پر ظلم کیا ہوگا ، کسی کو گالی دی ہوگی اور کسی کو مارا ہوگا، چنانچہ ہر ایک کو اسکے نیک اعمال میں سے بقدر ظلم حصہ دے دیا جائے گا یہاں تک کہ اسکی نیکیاں ختم ہو جائیں گی تو فرشتے کہیں گے کہ اسکی نیکیاں تو ختم ہو گئیں لیکن مطالبہ کرنے والے ابھی باقی ہیں اسپر رب کائنات د ارشاد فرمائے گا کہ ان لوگوں کے گناہ اس کے سر ڈالدو اور پھر اسے جہنم کا پروانہ لکھ دو'' (حِلیَۃ الاولیاء، ج اول، ص۱۷۸، ترجمہ ۲۹)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! خلاصہ یہ ہوا کہ ہمیں کسی بھی عمل کو حقیر نہیں جاننا چاہئے کیونکہ اس طرح ہم اسکے دھوکے اور شر سے محفوظ نہیں رہ سکیں گے اور روز حساب کے سوالات کا ہمارے پا س کوئی جواب نہیں ہوگا، حالانکہ اللہ قھّار و جبار د ہمارے اعمال سے باخبر ہے اور ہمیں دیکھ رہا ہے ۔