Brailvi Books

فیضانِ اِحیاءُ العُلوم
31 - 325
ترجمہ کنزالایمان: ''اور انہیں گالی نہ دو جن کو وہ اللہ کے سوا پوجتے ہیں کہ وہ اللہ کی شان میں بے ادبی کریں گے زیادتی اور جہالت سے''۔(پارہ ۸' سورۃ اَنعام' آیت ۱۰۹)

اس آیت مبارکہ میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ برے کام کا سبب بھی برا ہوتا ہے جیسا کہ یہاں بتوں کو برا کہنا اللہ تعالیٰ کو گالی دینے کا سبب بن رہا ہے بہر حال خوشبو لگانے سے اپنے دماغ کی فرحت و تازگی کی نِیّت کرنا بھی درست ہے تاکہ ذہانت اور ذکاوت زیادہ ہو اور غور و فکر کے ذریعے دین کے مشکل مسائل کو حل کرنا آسان ہو۔

جیسا کہ حضرت سَیِّدُنَا امام شافعی(رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) فرماتے ہیں'' جس کی خوشبو اچھی ہو اسکی عقل میں اضافہ ہوتا ہے ''۔ بہرحال یہ اور اس طرح کی دیگر نِیّتوں سے کوئی ایسا شخص غفلت نہیں کرسکتا جسکے دل میں آخرت کا نفع اور طلب خیر کا جذبہ کار فرما ہو البتہ جس بدنصیب کے دل میں دنیوی نعمتوں ہی کی ہوس قرار پکڑ چکی ہو تو اس قسم کی نِیّتیں اسکے ذہن میں نہیں آسکتیں بلکہ اگر کوئی توجہ بھی دلائے تب بھی اسکے دل میں اس قسم کی نِیّتوں کا جذبہ پیدا نہیں ہوتا اوراگر بمشکل نِیّت ہو بھی تب بھی محض ایک خیال کے طور پر ہو گی اور اسکا دل اس کے ساتھ نہیں ہوگا۔

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! مباح کام کیونکہ بے شمار ہیں اور ان میں نِیّتوں کا شمار کرنا ممکن نہیں چنانچہ اسی ایک مثال پر بقیہ تمام کو قیاس کر لیجئے ۔
ہر کام میں نیت :
کسی عارف (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) کا قول ہے کہ میں ہر کام میں نِیّت کو پسند کرتا ہوں حتی کہ کھانے پینے، سونے جاگنے، اور بیت الخلاء جانے تک میں نِیّت کا اہتمام کرتا ہوں۔

ان سب باتوں میں اللہ تعالیٰ کا قرب مقصود ہونا چاہئے کہ سونا جاگنا، کھانا پینا وغیرہ بدن کو راحت پہنچانے اور دل کو عبادت کے لئے فراغت اور تقویت دینے والے اعمال ہیں اور یہ بات دین کے معاملے میں مددگار ثابت ہوتی ہے ۔

چنانچہ جو شخص کھانا اس لئے کھائے کہ عبادت کی قوت قائم رہے ،جماع کرنے میں اپنی (نگاہوں اور ) دین کی حفاظت، نیک اولاد تک رسائی، شریک حیات کے دل کو خوش کرنا اور نبی اکرم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ والہ وسلم  کے امّتیوں اور رب (عزوجل) کے عبادت گزاروں کی تعداد میں اضافہ کرنا مقصود ہو تو ایسا کرنے والا کھانے پینے اور جماع کے دوران ہی اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے والا شمار ہوگا۔
Flag Counter