Brailvi Books

فیضانِ اِحیاءُ العُلوم
318 - 325
کہا گیا ہے کہ جس نے تکلف چھوڑا اس کی محبت دائمی ہوگئی اور جس کی مشقت کم ہوئی اس کی دوستی پکی ہوگئی۔ بعض صحابہ کرام(رضی اﷲ تعالیٰ عنہم) نے فرمایا کہ اﷲ (عزوجل) تکلف کرنے والوں پر لعنت فرماتا ہے۔

نیز حدیث پاک ہے
اَنَا وَالْاَتْقِیَاءُ مِنْ اُمَّتِیْ بُرَآءٌ مِّنَ التَّکَلُّفِ۔
''میں اور میری امت کے پرہیز گار لوگ تکلف سے بیزار ہیں'' (الاسرار المرفوعۃ ص ۹۸ حدیث ۳۷۶)

بعض بزرگوں(رضی اﷲ تعالیٰ عنہم) نے فرمایا کہ جب کوئی شخص اپنے دوست کے گھر میں چار کام کرلے تو اس کی محبت و اُنس مکمل ہوجاتا ہے اس کے پاس کھانا کھائے' اس کے ہاں ضرورتاً قضائے حاجت کرے ،اس کے ہاں نماز پڑھے اور سو جائے' کسی بزرگ سے یہ بات بیان کی گئی تو انہوں نے فرمایا ''ایک پانچویں بات باقی ہے وہ یہ کہ اپنے دوست کے گھر اپنی بیوی کو ہمراہ لے جائے اوروہاں اپنی بیوی سے ہمبستری کرے کیونکہ گھران ہی پانچ باتوں کے لئے بنائے جاتے ہیں ورنہ مساجد عبادت گزار لوگوں کے دلوں کی روحیں ہیں۔''

لہٰذا جب یہ پانچ کام کرلے تو اخوت مکمل ہوگئی اور ایک دوسرے سے اجنبیت ختم ہوگئی اور بے تکلفی پکی ہوگئی۔

اہل عرب سلام کا جواب دیتے ہوئے '' اہلاً وسہلاً'' کہتے ہیں تو اس کا یہی مطلب ہوتا ہے یعنی تو ہمارے پاس آرام دہ اور پر سکون جگہ پر آیا ہے اور تم ہمارے اپنے ہو تمہیں ہم سے اُنس حاصل ہوگا وحشت نہیں ہوگی اور تم ہماری طرف سے سہولت پاؤگے یعنی تم جو کچھ مانگوگے ہم پر گراں نہیں گزرے گا۔

اور ترکِ تکلف کی تکمیل اس وقت تک نہیں ہوتی جب تک وہ اپنے آپ کو اپنے دوستوں سے کم نہ سمجھے' ان کے بارے میں اچھا گمان کرے اور بدگمانی اپنے بارے میں ہو جب وہ ان کو اپنے آپ سے اچھا سمجھے گا تو اس وقت وہ ان سب سے بہتر ہو گا 

حضرت سیدنا ابو معاویہ اسود (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) فرماتے ہیں کہ میرے تمام دوست مجھ سے بہتر ہیں پوچھا گیا وہ کس طرح ؟ انہوں نے فرمایا کہ ان میں سے ہر ایک مجھے اپنے آپ سے افضل سمجھتا ہے اور جو آدمی مجھے اپنے آپ پر فضیلت دے وہ مجھ سے بہتر ہے۔

نبی اکرم  صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا :
اَلْمَرْءُ عَلَی دِیْنِ خَلِیْلِہِ وَلاَخَیْرَ فِیْ صُحْبَۃِ مَنْ لَّایَرَی لَکَ مِثْلَ مَاتَرَی لَہ'۔
''انسان اپنے دوست کے طریقے پر ہوتا ہے اور اس شخص کی مجلس کا کوئی فائدہ نہیں جو تیرے لئے وہ بات جائز نہ
Flag Counter