اسی لئے ایک شخص نے حضرت جنید بغدادی (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) سے عرض کیا کہ اس زمانے میں دوست کم ہوگئے ہیں اﷲ (عزوجل) کے لئے دوستی قائم کرنے والے کہاں ہیں ؟ حضرت سیدنا جنید (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) نے اس سے منہ پھیر لیا جب اس نے تین مرتبہ یہ بات دہرائی اور اصرار کیا تو آپ (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ )نے فرمایا ''اگر تم ایسا دوست چاہتے ہو جو تمہاری مشقت برداشت کرے اور تیری تکلیف خود اٹھائے تو یقینا ایسے دوست کم ہیں اور اگر تم اﷲ (عزوجل) کے لئے دوست چاہتے ہو کہ تم اس کی مشقت برداشت کرو اور اس کی طرف سے پہنچنے والی اذیت پر صبر کرو تو میرے پاس ایک جماعت ہے میں تمہیں بتادیتا ہوں اس پر وہ خاموش ہوگیا۔''
میٹھے میٹھے اسلامی بھائيو ! سیدنا امام غزالی (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) کے قول کے مطابق لوگ تین قسم کے ہیں ایک وہ شخص ہے جس کی صحبت سے تم نفع اٹھاسکتے ہوں' دوسرا وہ جسے تم نفع پہنچانے پر قادر ہو اور اس سے تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچتا اور نہ ہی نفع پہنچتا ہے اور تیسرا شخص وہ ہے کہ جس تم نفع نہیں پہنچا سکتے لیکن اس سے تمہیں نقصان پہنچتا ہے تو ایسا شخص بیوقوف بداخلاق ہے اس تیسرے آدمی سے تمہیں بچنا چاہئے جہاں تک دوسرے آدمی کا تعلق ہے اس سے مت بچو کیونکہ وہ تمہیں آخرت میں فائدہ دے گا یعنی اس کی سفارش اور دعا اور اس کے حقوق قائم کرنے کے ثواب کا فائدہ حاصل ہوگا۔
ایک مرتبہ اﷲ (عزوجل) نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرف وحی فرمائی کہ اگر لوگوں کو بتا دیں کہ اگر وہ میرا حکم مانیں تو انکے کے بہت سے دوست ہوں گے مطلب یہ کہ ان کی غمخواری کریں' ان سے تکلیف برداشت کریں اور ان سے حسد نہ کریں۔