Brailvi Books

فیضانِ اِحیاءُ العُلوم
315 - 325
آٹھواں حق 

              آسانی اختیار کرنا اور تکلیف و تکلف کو چھوڑ دینا :
یعنی اپنے دوست کو اس بات کی تکلیف نہ دے جو اس کے لئے مشکل ہو بلکہ اپنی حاجات اور مشکلات کے حل کے لئيازخود اس سے مطالبہ نہ کرے اور اس سلسلے میں اس کے دل کو آرام پہنچائے بلکہ اس کا کچھ بوجھ خود برداشت کرکے اسے سکون پہنچائے اس کے مرتبے اور مال کی وجہ سے اس سے مدد طلب نہ کرے اسے اپنے لئے تواضع اور اپنے حال کی خبرگیری پر مجبور نہ کرے اور اپنے حقوق کے قائم کرنے پر اسے پریشان نہ کرے بلکہ اس کے ساتھ محبت محض رضائے خداوندی کے لئے ہو اس کی دعا سے برکت اس کی ملاقات سے اُنسیت اور اس کے ذریعے اپنے دین پر مدد حاصل کرنا مقصود ہو۔

نیز اس کے حقوق ادا کرکے اور اس کی مشقت برداشت کرکے اﷲ (عزوجل) کا قرب حاصل کرے۔

بعض بزرگوں نے فرمایا کہ جو آدمی اپنے دوستوں سے ایسی بات کی خواہش کرے جس کی خواہش وہ اس سے نہیں کرتے تو اس نے ان پر ظلم کیا اور جس نے ان سے اس چیز کا تقاضا کیا جس کا وہ اس سے تقاضا کرتے ہیں تو اس نے ان کو تھکا دیا اور جو ان سے کوئی مطالبہ نہ کرے وہ ان سے حسن سلوک کرنے والا ہے۔

کسی دانا کا قول ہے کہ جو شخص اپنے دوستوں کے ہاں اپنے آپ کو اپنے مقام سے بلند سمجھتا ہے وہ خود بھی گناہ گار ہوتا ہے اور ان کو بھی گناہ گار کرتا ہے اور جو کوئی اپنی حیثیت کے مطابق ان کے ساتھ رہتا ہے وہ خود بھی مشقت اٹھاتا ہے اور ان کو بھی مشقت میں ڈالتا ہے اور جو آدمی اپنے آپ کو اپنے مقام سے نیچے رکھتا ہے وہ خود بھی محفوظ ہوتا ہے اور وہ بھی محفوظ ہوتے ہیں۔

حضرت جنید (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) نے فرمایا'' جب دو آدمی دینی بھائی بنتے ہیں پھر اگر وہ ایک دوسرے سے اجنبیت محسوس کریں تو کسی ایک میں ضرور کوئی خرابی ہوتی ہے۔''

حضرت سیدنا علی المرتضیٰ (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) فرماتے ہیں کہ سب سے برا دوست وہ ہے جو تیرے لئے تکلف کرے اور پھرے تجھے اس کا خاطر تواضع کرنا پڑے یا تجھے عذر پیش کرنے کی ضرورت محسوس ہو۔

حضرت سیدنا فضیل (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) فرماتے ہیں لوگوں کے تعلقات تکلف کی وجہ سے ٹوٹتے ہیں ایک شخص اپنے دوست کی ملاقات کو جاتا ہے اور وہ اس کے لئے تکلف کرتا ہے تو یہی ترکِ ملاقات کا باعث بنتا ہے۔
Flag Counter