تمام مذہب نقل کیا تھا لیکن حضرت بویطی (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) زہد و تقویٰ میں ان سے افضل و اقرب تھے۔
اسکے بعد حضرت سیدنا امام شافعی (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) نے انہیں اﷲ (عزوجل) اور مسلمانوں کے بارے میں (ڈرنے کی) وصیت فرمائی نیز یہ کہ وہ مداہنت (دورنگی) اختیار نہ کریں اور اﷲ (عزوجل) کی رضا پر مخلوق کی رضا کو ترجیح نہ دیں۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائيو !مقصود یہ ہے کہ محبت میں وفا کی تکمیل یہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ کے لئے خیر خواہی کی جائے ۔۔۔۔۔۔ حضرت احنف (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) نے کہا ہے کہ بھائی چارہ ایک لطیف جوہر ہے اگر اس کی حفاظت نہیں کروگے تو پر آفات کا قبضہ ہوگا لہٰذا غصہ پی جانے کے ذریعے اس کی حفاظت کرو حتی کہ جو دوست تم پر ظلم کرے تم خود اس کے سامنے عذر پیش کرو اور اس قدر رضا اختیار کرو کہ اپنے بارے میں زیادہ فضیلت نہ جانو۔ اور اپنے دوست کی کوتاہی نہ سمجھو۔ صدق' اخلاص اور تمام وفا کی علاماتِ یہ ہیں کہ جدائی سے خوب ڈرو اور اس کے اسباب سے طبیعت کو متنفر کردو جیسے کہا گیا ہے۔
''میں نے زمانے کی تمام مصیبتوں کو احباب کی فرقت کے مقابلے میں آسان پایا۔''
ان عینیہ(رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ ) نے یہ شعر پڑھا اور کہا کہ میں ایک قوم کے ساتھ رہا اور تیس سال ہوگئے ان سے جدا ہوا ہوں میرا خیال نہیں کہ ان کی حسرت میرے دل سے جائے گی۔
اسکے علاوہ وفا کا تقاضا ہے کہ دوست کے خلاف لوگوں کی شکایات نہ سنے خاص طور پر ایسے لوگوں سے جنکے بارے ،یں پتہ ہو کہ وہ اس کے دوست کے ساتھی ہیں تاکہ ان پر تہمت نہ لگے اور پھر یہ گفتگو کریں اور اس کے دوست کی طرف سے ایسی باتیں نقل کریں جو دل میں کینہ پیدا کردیں ایک دوسرے کے خلاف نفرت پیدا کرنے اور پھوٹ ڈالنے کے لئے یہ نہایت باریک تدبیر ہے۔
منقول ہے کہ ایک شخص نے کسی دانا سے کہا کہ میں آپ سے دوستی کرنا چاہتا ہوں اس نے کہا اگر اس کے بدلے میں تین باتوں کو قبول کرو تو میں دوستی کرنے کے لئے تیار ہوں اس نے پوچھا وہ کیا ہیں ؟ اس نے جواب دیا میرے خلاف کوئی شکایت نہ سننا' کسی بات میں میری مخالفت نہ کرنا اور ناز ونخرے سے مجھے پامال نہ کرنا۔
وفا کا ایک تقاضا یہ ہے کہ اپنے دوست کے دشمن سے دوستی نہ کرے حضرت سیدنا امام شافعی (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) نے فرمایا ''جب تمہارا دوست' تمہارے دشمن کی بات مانے تو وہ دونوں تمہاری دشمنی میں شریک ہوگئے۔''