Brailvi Books

فیضانِ اِحیاءُ العُلوم
313 - 325
اور اگر اس کا مرتبہ بڑھ جائے تو تجھ پر بڑائی کا اظہار نہ کرے۔''

لیکن کسی دانا کا قول ہے کہ جب تمہارا کوئی دوست حکومت کا منصب سنبھال لے اور تم سے آدھی دوستی کرے تو بھی غنیمت ہے۔

حضرت سیدنا ربیع (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) نے نقل کیا کہ حضرت سیدنا امام شافعی (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) نے بغداد میں ایک شخص سے اخوّت قائم کی پھر ان کا وہ دوست ایک علاقے سیبین کا حاکم ہوگیا اور اس کا رویہ تبدیل ہوگیا چنانچہ حضرت سیدنا امام شافعی (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) نے اس کی طرف چند اشعار لکھے۔ (ترجمہ یہ ہے)

جاؤ تمہیں میرے دل کی طرف سے ایک طلاق ہے اور یہ طلاق بائن نہیں رجوع کی گنجائش ہے اگر تم باز آجاؤ تو یہ ایک کافی ہے اور تمہاری محبت دوطلاقوں کی گنجائش پر باقی رہے گی اور اگر ایسا نہ ہوا تو ایک اور دے کر اسے جفت بنادوں گا اور یہ دو حیضوں میں دو طلاقیں ہوجائیں گی اور اگر میری طرف سے تمہیں تین طلاقیں قطعی مل گئیں تو تمہیں سیبین کی حکومت بھی کوئی فائدہ نہیں دے گی۔

میٹھے میٹھے اسلامی بھائيو ! یہ بھی جان لو کہ دین سے متعلق کسی بات میں حق کی مخالفت پر اپنے دوست کی موافقت وفا میں شامل نہیں ہے بلکہ وفا کا تقاضا ہے کہ اس کی مخالفت کی جائے' حضرت سیدنا امام شافعی (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) نے حضرت سیدنا محمد بن عبد الحکم (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) سے اخوّت قائم کی تو وہ انہیں قریب کرتے اور ان کی طرف توجہ فرماتے تھے اور فرماتے تھے کہ میں مصر میں صرف اسی شخص کی وجہ سے ٹھہرا ہوا ہوں۔ حضرت سیدنا محمد بن عبد الحکم  صلی اللہ تعالی علیہ وسلم بیمار ہوئے تو حضرت سیدنا امام شافعی (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) نے ان کی عیادت کی اور فرمایا:

دوست بیمار ہوا تو اس کی عیادت کے لئے گیا اور اس کی بیماری کے ڈرسے میں خود بیمار ہوگیا۔

اب دوستی میری بیمار پرسی کے لئے آیا اور میں اسے دیکھ کر ٹھیک ہوگیا۔

ان دونوں میں سچی دوستی کی وجہ سے لوگوں کا خیال تھا کہ حضرت امام شافعی (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) اپنی وفات کے وقت اپنے حلقہ کا معاملہ ان کے سپرد کردیں گے چنانچہ حضرت امام صاحب جب بیمار ہوئے اور اسی بیماری میں انہوں نے انتقال فرمایا تو پوچھا گیا اے ابو عبد اﷲ (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) ! ہم آپ کے بعد کس کے پاس بیٹھا کریں ؟ حضرت سیدنا محمد بن عبد الحکم (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) سرہانے کھڑے تھے انہوں نے آگے کی طرف جھانکا تاکہ وہ ان کی طرف اشارہ کریں حضرت سیدنا امام شافعی (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) نے فرمایا سبحان اﷲ ! کیا یہ شک کی بات ہے ابو یعقوب بویطی(رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ ) موجود ہیں اس پر حضرت محمد ابن عبد الحکم(رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ )کچھ شکستہ دل ہوئے اور حضرت سیدنا امام صاحب (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ )کے شاگرد حضرت بویطی (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ )کی طرف متوجہ ہوگئے۔ حالانکہ حضرت محمد بن عبد الحکم نے(رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ )آپ سے آپ (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ )کا