Brailvi Books

فیضانِ اِحیاءُ العُلوم
312 - 325
اور حضرت یوسف علیہ السلام کا واقعہ ذکر کرتے ہوئے فرمایا:
مِنْ بَّعْدِ اَنْ نَزَغَ الشَّیْطَانُ بَیْنِیْ وَبَیْنَ اِخْوَتِیْ۔
ترجمہ کنزالایمان''بعد اس کے کہ شیطان نے مجھ میں اور میرے بھائیوں میں ناچاقی کرادی تھی'' 

(پارہ نمبر ۱۳' سوره یوسف آیت ۱۰۰)

کہا جاتا ہے کہ جب دو مسلمان' اﷲ تعالیٰ کے لئے ایک دوسری کے ساتھ دوستی قائم کرتے ہیں اور پھر ان کے درمیان تفریق ہوجاتی ہے تو اس کی وجہ ان میں سے کسی ایک کا ارتکابِ گناہ ہوتا ہے اور حضرت بشر (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) فرماتے تھے جب کوئی بندہ اﷲ (عزوجل) کی فرمانبرداری میں کوتاہی کرتا ہے تو اﷲ (عزوجل) اس سے اس کے انیس (محبت کرنے والے) کو لے لیتا ہے اس لئے کہ دوستوں کی وجہ سے دل کے غم دور ہوتے ہیں اور دین پر مدد ملتی ہے اسی لئے حضرت ابن مبارک (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) نے فرمایا۔

''سب سے زیادہ لذیذ چیز دوستوں کی مجلس اور کفایت کی طرف رجوع کرنا ہے'' اور دائمی محبت وہی ہوتی ہی جو اﷲ (عزوجل) کی رضا کی خاطر ہو اور جو محبت کسی غرض پر مبنی ہو وہ اس غرض کے ختم ہونے سے ختم ہوجاتی ہے اور اﷲ (عزوجل) کے لئے محبت کے نتائج میں سے ایک نتیجہ یہ ہے کہ اس میں دینی یا دنیاوی اعتبار سے حسد نہیں ہوتا اور وہ اس سے کیسے حسد کریگا جب کہ جو کچھ اس کے دوست کا ہے اس کا فائدہ اسے بھی پہنچتا ہے۔

اﷲ (عزوجل) نے ایسے لوگوں کی تعریف میں فرمایا :
وَ لَا یَجِدُوۡنَ فِیۡ صُدُوۡرِہِمْ حَاجَۃً مِّمَّاۤ اُوۡتُوۡا وَ یُؤْثِرُوۡنَ عَلٰۤی اَنۡفُسِہِمْ
ترجمہ کنزالایمان''اور اپنے دلوں میں کوئی حاجت نہیں پاتے اس چیز کی جو دیئے گئے اور اپنی جانوں پر ان کو ترجیح دیتے ہیں'' (پارہ نمبر۲۸' سوره حشر آیت ۹)

اور حاجت کا پایا جانا ہی حسد ہے۔

نیزوفا کا تقاضا ہے کہ اپنے بھائی کے ساتھ تواضع میں تبدیلی نہ آئے اگرچہ خود اس کا مرتبہ بلند ہوجائے وسیع اختیار اور بلند مقام حاصل ہوجائے کیونکہ ان جدید حالات کی وجہ سے اپنے بھائیوں پر بڑائی کا اظہار کمینگی ہے۔ کسی شاعر نے کہا۔معزز لوگ جب خوشحال ہو جائيں تب بھی ان لوگوں کو یاد رکھتے ہیں جنہوں نے مفلسی میں انکے ساتھ محبت کا برتاؤ کیا تھا۔

کسی بزرگ (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) نے اپنے بیٹے کو وصیت کرتے ہوئے فرمایا ''اے بیٹے ! لوگوں میں سے صرف ایسے شخص سے دوستی لگانا جو تمہاری محتاجی کے وقت تمہارے قریب ہو اور جب تم اس کی ضرورت محسوس نہ کرو تو وہ تم سے کوئی لالچ نہ رکھے
Flag Counter