| فیضانِ اِحیاءُ العُلوم |
حضرت سیدنا ابو الدرداء (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) فرماتے تھے کہ میں اپنے ستر (مسلمان) بھائیوں کے لئے ان کے نام لے کر سجدے میں دعا کرتا ہوں۔ حضرت سیدنا محمد بن یوسف اصفہانی (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ )فرماتے تھے نیک دوست جیسا آدمی کہاں ہے ؟ تمہارے گھر والے (تمہارے مرنے کے بعد) تمہاری میراث تقسیم کرنے میں مصروف ہوتے ہیں اور جو کچھ تم نے چھوڑا اس سے لطف اندوز ہوتے ہیں اور یہ تنہا تمہارا غم کرے اور تمہارے گزشتہ اعمال اور تمہاری عاقبت کے بارے میں فکر کرے وہ رات کے اندھیرے میں تمہارے لئے دعا کرتا ہے جب کہ تم مٹی کے ڈھیر کے نیچے ہوتے ہو ۔ دراصل نیک دوست فرشتوں کے طریقے پر چلتا ہے۔ کیونکہ حدیث شریف میں ہے۔
اِذَا مَاتَ الْعَبْدُ قَالَ النَّاسُ مَاخَلَّفَ وَقَالَتِ الْمَلاَئِکَۃُ مَا قَدَّمَ۔
''جب بندہ مرجاتا ہے تو لوگ کہتے ہیں کیا چھوڑ کر گیا اور فرشتے کہتے ہیں اس نے آگے کیا بھیجا'' (شعب الایمان جلد ۷ ص ۳۲۸ حدیث ۱۰۴۷۵) میں پوچھتے ہیں اور اس کے بارے میں فکر مند ہوتے ہیں کہا جاتا ہے کہ جو شخص اپنے دوست کی موت کا سن کر اس کے لئے رحمت اور بخشش کی دعا مانگے اسے اس کے جنازے میں شرکت اور نماز جنازہ پڑھنے کا ثواب ملتا ہے۔
ڈ وبنے والا :
نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا۔ ''قبر میں میت کی مثال ڈوبنے والے شخص کی طرح ہے وہ اپنی اولاد یا والد یا بھائی یا قریبی رشتہ دار کی طرف سے دعا کا منتظر ہوتا ہے اور مرنے والوں کی قبروں میں زندوں کی دعائیں پہاڑوں جیسے انوار کی شکل میں داخل ہوتی ہیں۔'' کسی بزرگ نے فرمایا کہ فوت شدہ لوگوں کے لئے دعا زندہ لوگوں کے لئے تحفوں کی طرح ہے' فرشتہ میت کے پاس اس طرح جاتا ہے کہ اس کے پاس نور کا ایک تھال ہوتا ہے جس پر نور کا ایک رومال ہوتا ہے اور وہ کہتا ہے کہ یہ تیرے فلاں دوست کی طرف سے تیرے لئے ہدیہ ہے یا تیرے فلاں رشتہ دار کی طرف سے ہے' وہ فرماتے ہیں کہ اس پر میت خوش ہوجاتی ہے جس طرح زندہ آدمی تحفہ ملنے پر خوش ہوتا ہے۔