| فیضانِ اِحیاءُ العُلوم |
حضرت سیدنا عمر فاروق (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) نے فرمایا کہ تمہاری دوستی تکلف اور دشمنی ضائع کرنے والی نہ ہو مطلب یہ کہ تم خود بھی ہلاک ہو اور دوست بھی ضائع کردو۔
چھٹا حق
دعا مانگنا ۔۔۔۔۔۔ !میٹھے میٹھے اسلامی بھائيو !اپنے دوست کی زندگی میں بھی اور اس کے فوت ہونے کے بعد بھی اس کے لئے دعا مانگنا اور ہر ایسی بات چاہنا جسے وہ اپنے اور اپنے گھر والوں کے لئے پسند کرتا ہے بلکہ اپنے ہر متعلق کے بارے میں چاہتا ہو کیونکہ اس کے حق میں دعا مانگنا درحقیقت اپنے لئے دعا مانگنا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا۔
اِذَا دَعَا الرَّجُلُ لِاَخِیْہِ فِی ظَھْرِ الْغَیْبِ قَالَ الْمَلَکُ وَلَکَ مِثْلُ ذٰلِکَ۔
''جب کوئی شخص اپنے دوست کی عدم موجودگی میں اس کے لئے دعا مانگتا ہے تو فرشتہ کہتا ہے اور تیرے لئے بھی اس کی مثل ہو''(سنن ابی داؤد جلد اول ص ۲۱۴ کتاب الصلوٰۃ) ایک دوسری روایت میں یوں ہے۔
یَقُوْلُ اللہُ تَعاَلٰی بِکَ اَبْدَأُ یَاعَبْدِیْ۔
''اﷲعزوجل ارشاد فرماتا ہے اے میرے بندے ! میں تجھ سے شروع کروں گا'' ایک دوسری حدیث میں ہے۔
یُسْتَجَابُ لِلَّرجُلِ فِیْ اَخِیْہِ مَالَایُسْتَجَابُ لَہ' فِیْ نَفْسِہٖ۔
''آدمی کی دعا اس کے بھائی کے حق میں جس طرح قبول کی جاتی ہے خود اس کے حق میں نہیں کی جاتی'' (سنن ابی داؤد جلد اول ص ۲۱۴ کتاب الصلوٰۃ) ایک اور حدیث شریف میں ہے۔
دَعْوَۃُ الرُّجُلِ لِاَخِیْہِ فِیْ ظَھْرِ الْغَیْبِ لاَتُرَدُّ۔
''کسی آدمی کی اپنے بھائی کی عدم موجودگی میں اس کے لئے دعا رد نہیں کی جاتی ''(کنز العمال جلد ۲ ص ۹۸ حدیث ۳۳۱۶)